ملک سب کا ہے، ذات، دولت اور زبان کی بنیاد پر فیصلہ نہ کریں: موہن بھاگوت نے سماجی یکجہتی اور ماحولیاتی تحفظ پر دیا زور
موہن بھاگوت نے کہا کہ سماجی ہم آہنگی کی پہلی سیڑھی دل سے تفریق اور امتیاز کے جذبات کو ختم کرنا ہے۔

Published : December 31, 2025 at 8:47 PM IST
رائے پور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ لوگوں کو ذات، دولت، زبان یا علاقے کی بنیاد پر پرکھنا درست نہیں، کیونکہ یہ ملک سب کا ہے۔ وہ بدھ کو چھتیس گڑھ کے رائے پور ضلع کے سونپیری گاؤں میں منعقدہ ایک ہندو کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
موہن بھاگوت نے کہا کہ سماجی ہم آہنگی کی پہلی سیڑھی دل سے تفریق اور امتیاز کے جذبات کو ختم کرنا ہے اور ہر فرد کو اپنا سمجھنا ہی حقیقی قومی یکجہتی ہے۔ انہوں نے اس سوچ کو ’’سماجک سمرستا‘‘ قرار دیا اور کہا کہ مندر، تالاب اور شمشان گھاٹ جیسے عوامی مقامات تمام ہندوؤں کے لیے کھلے ہونے چاہئیں، کیونکہ سماجی خدمت کا مقصد اتحاد ہے، تصادم نہیں۔
خاندانی نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خاندانوں کو چاہیے کہ ہفتے میں کم از کم ایک دن اکٹھے گزاریں، اپنی مذہبی روایت کے مطابق عبادت کریں، گھر کا کھانا ساتھ کھائیں اور ’’منگل سمواد‘‘ یعنی مثبت اور بامعنی گفتگو کریں۔ ان کے مطابق تنہائی اکثر لوگوں کو بری عادتوں اور نشے کی طرف دھکیل دیتی ہے، جسے خاندانی رابطہ اور مکالمہ روک سکتا ہے۔
ماحولیات کے تحفظ پر گفتگو کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ ماحولیاتی بگاڑ اور عالمی حدت ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پانی کی بچت، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، پلاسٹک کے کم استعمال اور شجر کاری کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی اور فطرت کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بلکہ ہم سفر بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
قبل ازیں، موہن بھاگوت نے ایمس رائے پور میں نوجوانوں کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اندھا دھند ترقی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اگر ماحولیاتی توازن کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والی نسلوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیں: منی پور میں نسلی تنازعہ کا سامنا، متنازعہ گروپوں کے درمیان اختلافات کو حل کرنے میں وقت لگے گا: موہن بھاگوت
انہوں نے آئین، قوانین اور شہری نظم و ضبط کی پابندی، مادری زبان کے استعمال، دیسی مصنوعات کے فروغ اور خود انحصاری کی بھی تلقین کی۔ یہ دورہ آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کا حصہ ہے، جس کا مقصد نوجوانوں اور معاشرے کے مختلف طبقات سے براہِ راست مکالمہ قائم کرنا ہے۔

