ترکمان گیٹ پتھراؤ معاملہ: 30 مشتبہ افراد کی شناخت، دہلی پولیس کی چھاپے ماری
دہلی میں فیض الٰہی مسجد کے قریب انہدامی کارروائی کے دوران پتھراؤ کے معاملے میں اب تک تیس افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔

Published : January 8, 2026 at 12:37 PM IST
نئی دہلی: رام لیلا میدان کے قریب ترکمان گیٹ اور فیض الٰہی مسجد کے قریب تجاوزات کے خلاف انہدامی کارروائی کے دوران ہوئے پتھراؤ کے سلسلے میں پولیس کی دھر پکڑ کی کارروائی جاری ہے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں اب تک 30 افراد کی شناخت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پتھراؤ کرنے والے مشتبہ افراد کی شناخت علاقے میں نصب سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کی بنیاد پر کی گئی۔ پولیس کی متعدد ٹیمیں ملزمین کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں۔
फैज़-ए-इलाही मस्जिद के पास पत्थरबाजी का मामला | दिल्ली पुलिस ने पत्थरबाजी की घटना के सिलसिले में 30 लोगों की पहचान की है। दिल्ली पुलिस ने CCTV कैमरा फुटेज और वायरल वीडियो के आधार पर उनकी पहचान की है। पुलिस टीमें उन्हें हिरासत में लेने के लिए छापेमारी कर रही हैं: दिल्ली पुलिस
— ANI_HindiNews (@AHindinews) January 8, 2026
غور طلب ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت پر میونسپل کارپوریشن آف دہلی کی جانب سے شروع کی گئی انہدامی کارروائی کے دوران سات جنوری کی آدھی رات کے بعد تقریباً 1:30 بجے صورت حال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب فیض الٰہی مسجد کے قریب کچھ لوگوں نے پولیس اور ایم سی ڈی کے اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو ہلکی طاقت اور آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کرنا پڑا۔ اس دوران جھڑپوں میں کچھ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
تیس مشتبہ افراد کی شناخت
دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ تکنیکی شواہد اور مقامی معلومات کی بنیاد پر 30 'فسادیوں' کی شناخت کر لی گئی ہے۔ پولیس کی ٹیمیں ان کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔ دہلی پولیس کے مطابق علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں، پولیس اہلکاروں کے ہیلمٹ میں لگے کیمروں، اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تقریباً 400 ویڈیوز کی جانچ کی گئی تاکہ تشدد میں ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔
#WATCH | Tumakuru, Karnataka: Ashok K Venkat, SP Tumakuru, says, " yesterday, kyatsandra police received information at around 4 pm that one lady and two kids were found dead in a water tank. when police reached the spot and took out the bodies, it was found that one lady named… pic.twitter.com/MpqR91O18t
— ANI (@ANI) January 8, 2026
سی سی ٹی وی کی بنیاد پر دہلی پولیس کے چھاپے
پولیس نے واضح کیا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ اس معاملے میں اب تک پانچ مبینہ کلیدی ملزمان (سمیر، محمد اریب، محمد کاشف، محمد عدنان، اور محمد کیف) کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا۔ دہلی میونسپل کارپوریشن، ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے مسجد سے متصل غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے کے لیے انہدامی مہم چلا رہی تھی۔ گرائی جانے والی عمارتوں میں ایک ڈسپنسری اور ایک شادی ہال بھی شامل ہے۔ آپریشن کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری اور ریپڈ ایکشن فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔
#WATCH दिल्ली: तुर्कमान गेट के पास भारी पुलिस बल तैनात किया गया है। https://t.co/QfeNcUSrjN pic.twitter.com/q9LKFXdqD4
— ANI_HindiNews (@AHindinews) January 8, 2026
ترکمان گیٹ علاقے میں کشیدگی کا ماحول
پولیس اس معاملے میں سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی محب اللہ ندوی کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تشدد شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے رکن اسمبلی جائے وقوع پر موجود تھے۔ پولیس جلد ہی انہیں تفتیش میں شامل ہونے کے لیے طلب کر سکتی ہے۔ اس وقت ترکمان گیٹ کے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ پولیس نے بھیڑ کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے بی این ایس (بھارتیہ سنستھان) کی دفعہ 163 (سابقہ دفعہ 144) نافذ کر دی ہے۔ دہلی پولیس نے مقامی امن کمیٹی کے ساتھ مل کر عوام سے امن برقرار رکھنے اور افواہوں کو نظرانداز کرنے کی اپیل کی ہے۔
#WATCH | दिल्ली | तुर्कमान गेट स्थित फैज-ए-इलाही मस्जिद के पास से ध्वस्तिकरण के बाद मलबा हटाने का काम जारी है, जहां MCD द्वारा अतिक्रमण हटाने का अभियान चलाया गया था। pic.twitter.com/7CjNQ4dPED
— ANI_HindiNews (@AHindinews) January 8, 2026
اس واقعے کے بعد سے پورے ترکمان گیٹ کے علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ علاقے میں وسیع رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں، اور دہلی پولیس کے ساتھ ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکاروں کو ہر گلی، چوراہے اور داخلی مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ پوچھ گچھ اور شناخت کے بعد ہی باہر کے لوگوں کو علاقے میں جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ فیلڈ سٹاف پورے علاقے کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ علاقے کا ماحول مکمل طور پر پرسکون ہے۔ ترکمان گیٹ کے آس پاس کا عام طور پر بھیڑ والا علاقے میں کل کے مقابلے میں آج تھوڑی چہل پہل میں اضافہ دیکھا گیا۔ پولیس اس بات کو بھی یقینی بنا رہی ہے کہ عام شہریوں کے روزمرہ کے کاموں میں خلل نہ پڑے۔ ضروری سروس ورکرز، کام کرنے والے لوگ، اور معمول کے مطابق مقامی باشندوں کی آمد و رفت میں خلل نہ ہو۔
مزید پڑھیں:
سنبھل: مسجد سے منسلک لوگوں کے مکانات پر چلائے گئے بلڈوزر، انتظامیہ کا غیر قانونی تعمیرات کا دعویٰ
دہرادون میں ایک جامع مسجد سیل، بغیر نقشہ پاس کرائے تعمیر کرنے کا الزام

