دہلی فسادات کیس: سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا
سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کے دیگر پانچ ملزمان کی ضمانت منظور کر لی۔

Published : January 5, 2026 at 11:15 AM IST
|Updated : January 5, 2026 at 12:02 PM IST
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت درخواست پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس معاملے میں دیگر پانچ ملزمان گلفشہ فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست کو مسترد کیے جانے کے فیصلے کو ملزمان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
The Supreme Court has, however, granted bail to the other five persons accused in the matter: Gulfisha Fatima, Meeran Haider, Shifa Ur Rehman, Mohammad Saleem Khan and Shadab Ahmed.
— ANI (@ANI) January 5, 2026
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ معاملہ ملک کی سکیورٹی سے جڑا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ دیگر ملزمین کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ عمر خالد اور شرجیل امام سے ان کا معاملہ الگ ہے۔
جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجریا کی بنچ نے کہا کہ انہوں (عمر خالد اور شرجیل امام) نے مبینہ جرائم میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جبکہ دونوں ملزمان کافی عرصے سے جیل میں ہیں، لیکن مقدمے کی سماعت میں تاخیر 'ٹرمپ کارڈ' کے طور پر کام نہیں کرتی ہے جو خود بخود قانونی تحفظات کو ہٹا دیتا ہے۔ اس سے آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی نہیں ہوتی اور نہ ہی قوانین کے تحت قانونی رکاوٹ کو ختم کرتی ہے۔
#WATCH | Delhi | On the Supreme Court rejecting the bail plea of his son Umar Khalid, Syed Qasim Rasool Ilyas says, " i don't want to say anything. i heard the judgment." pic.twitter.com/10eJWDQBTV
— ANI (@ANI) January 5, 2026
سپریم کورٹ سے اپنے بیٹے عمر خالد کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر سید قاسم رسول الیاس کافی افسردہ نظر آئے۔ سپریم کورٹ کے احاطہ میں انھوں نے کہا کہ، میں کچھ نہیں کہنا چاہتا، میں نے فیصلہ سن لیا ہے۔
ضمانت پانے والی گلفشہ فاطمہ کے وکیل ایس جاوید نے اپنے مؤکل کو ضمانت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا، "ہمیں خوشی ہے کہ آج پانچ افراد کو ضمانت مل گئی، وہ ساڑھے پانچ سال بعد جیل سے باہر آئیں گے۔
#WATCH | Delhi: Sarim Javed, lawyer for Gulfisha, says, " we are happy that five people got bail today. they will be coming out of jail after 5.5 years. umar khalid and sharjeel imam have been given the liberty to apply for bail after one year. the police and trial have been… pic.twitter.com/k3G9LcDmqM
— ANI (@ANI) January 5, 2026
انھوں نے مزید کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے اہل خانہ کے لیے بہت بڑی راحت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ایک سال بعد ضمانت کی درخواست دینے کی آزادی دی ہے، عدالت نے پولیس اور ٹرائل کو ہدایت کی ہے کہ کیس کو تیزی سے چلایا جائے، اور ایک سال کے اندر تمام گواہوں پر جرح کی جائے۔
عمر خالد، امام اور باقی ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت مبینہ طور پر فروری 2020 کے فسادات کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،۔ دہلی فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
2020 میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں کے دوران دہلی میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔
یہ ملزمان، جنہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کیا ہے، 2020 سے جیل میں ہیں اور دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست کی تھی۔
دوسری جانب امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے امریکہ میں ہندوستانی سفیر ونے کواترا کو خط لکھا ہے کہ خالد کو ضمانت دی جائے اور "بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ، بروقت ٹرائل" کو یقینی بنایا جائے۔ خط میں 2020 دہلی فسادات کے سلسلے میں الزامات عائد کیے جانے والے خالد سمیت دیگر افراد کی طویل پری ٹرائل حراست کے بارے میں تشویش" کا اظہار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:

