ETV Bharat / bharat

جنتر منتر تشدد کے پیچھے منظم ڈیجیٹل سازش کا انکشاف، دہلی پولیس کی میٹا، گوگل اور ایکس کو نوٹس

مبینہ ڈیجیٹل سازش کی تہہ تک پہنچنے کےلیے دہلی پولیس نے میٹا، گوگل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" کو باضابطہ نوٹس جاری کیے ہیں۔

جنتر منتر تشدد کے پیچھے منظم ڈیجیٹل سازش کا انکشاف، دہلی پولیس کی میٹا، گوگل اور ایکس کو نوٹس
جنتر منتر تشدد کے پیچھے منظم ڈیجیٹل سازش کا انکشاف، دہلی پولیس کی میٹا، گوگل اور ایکس کو نوٹس (File Photo/ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : August 6, 2026 at 2:14 PM IST

4 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی : دہلی کے جنتر منتر میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے تشدد کے پس منظر میں ایک مبینہ منظم ڈیجیٹل سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ سائبر سیل اور فرانزک ماہرین کی تکنیکی تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے منظم انداز میں اشتعال انگیز مہم چلائی گئی، جس کا مقصد احتجاج کو پرتشدد رخ دینا تھا۔

دہلی پولیس کے مطابق 20 جولائی سے 23 جولائی کے درمیان مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہزاروں جعلی اکاؤنٹس اور غیر ملکی بوٹ نیٹ ورکس کے ذریعے اشتعال انگیز ویڈیوز، متنازع بیانات، ریلس اور گمراہ کن مواد بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مواد معمول کے مطابق وائرل نہیں ہوا بلکہ بوٹس کے ذریعے پلیٹ فارمز کے الگورتھمز کو استعمال کرتے ہوئے اس کی رسائی مصنوعی طور پر بڑھائی گئی۔

تحقیقات کے مطابق اسی منظم مہم کے نتیجے میں احتجاجی مظاہرین میں اشتعال پیدا ہوا اور جنتر منتر، جن پتھ، ٹالسٹائے مارگ اور پارلیمنٹ اسٹریٹ کے علاقوں میں مسلسل چار روز تک کشیدہ صورتحال برقرار رہی۔ پولیس کے مطابق اس دوران مشتعل عناصر نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور احتجاج کی کوریج کرنے والے میڈیا نمائندوں پر پتھراؤ کیا، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی۔

مبینہ ڈیجیٹل سازش کی تہہ تک پہنچنے کے لیے دہلی پولیس کے سائبر سیل نے میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام)، گوگل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" کو باضابطہ نوٹس جاری کیے ہیں۔ پولیس نے ان کمپنیوں سے جعلی اکاؤنٹس اور بوٹ نیٹ ورکس کے سرور لاگز، آئی پی ایڈریسز، لاگ اِن ہسٹری، حقیقی جغرافیائی مقامات، ہزاروں اکاؤنٹس چلانے کے لیے استعمال ہونے والے خودکار نظام اور ان اکاؤنٹس کے اصل منتظمین کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

تحقیقات میں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق تقریباً 480 پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جو ماضی میں "آپریشن سندور" کے دوران بھارت مخالف اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے میں سرگرم تھے، اسی مہم کے دوران بھی فعال پائے گئے۔ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس مہم کے پیچھے غیر ملکی عناصر یا بیرونی ایجنسیاں ملوث تھیں جن کا مقصد بھارت میں امن و امان کو متاثر کرنا تھا۔

پولیس ہیڈکوارٹر کے مطابق تحقیقات کی روشنی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے، ترجمان سوربھ داس، کارکن آشوتوش رانکا اور دیگر اہم عہدیداروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ قانونی مشاورت کے بعد انہیں نوٹس جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ تحقیقات کے دوران پولیس نے ایسے 2,873 افراد کی بھی نشاندہی کی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر احتجاج میں حصہ لیا اور جن کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امرناتھ یاترا: 4.70 لاکھ کا ہندسہ عبور کرتے ہوئے 1,801 یاتری بالتل کے لیے روانہ

فرانزک ماہرین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ اس مبینہ ڈیجیٹل مہم کے لیے مالی وسائل کہاں سے فراہم کیے گئے، ہجوم کو کس طرح منظم کیا گیا اور سوشل میڈیا پر چلائی گئی مہم کی منصوبہ بندی کس سطح پر کی گئی۔ دہلی پولیس کا مؤقف ہے کہ جنتر منتر میں پیش آنے والا تشدد اچانک عوامی ردِعمل نہیں تھا بلکہ ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی تھی۔ تحقیقاتی ٹیمیں اب مالی لین دین، کال ڈیٹیل ریکارڈ اور ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے اس مبینہ سازش کے اصل منصوبہ سازوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔