وندے ماترم تنازعہ پر کھڑگے کا بی جے پی سے سوال: جواب، کیا گاندھی، نہرو، پٹیل اور بوس بھی ملک دشمن تھے؟
کھڑگے نے مکمل وندے ماترم نہ گانے والوں کو ملک دشمن یا مسلم خوشامد قرار دینے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

Published : August 22, 2026 at 8:08 PM IST
گلبرگہ : آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے وندے ماترم کی صرف دو بند گانے کے کانگریس کے فیصلے پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حملے کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس اسی ورژن پر عمل کررہی ہے جسے آزادی کی جدوجہد کے دوران ملک کے اہم قومی رہنماؤں نے منظور کیا تھا۔ کھڑگے نے سوال اٹھایا کہ اگر وندے ماترم کے مختصر ورژن کو اپنانا ملک دشمنی ہے تو پھر وہ قومی رہنما بھی کیا ملک دشمن تھے جنہوں نے اس سلسلے میں فیصلہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی، سبھاش چندر بوس اور سردار ولبھ بھائی پٹیل سمیت کئی اہم رہنماؤں نے 1937 میں وندے ماترم کو چھ کے بجائے دو بندوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کھڑگے نے سوال کیا کہ اگر یہ مسئلہ اتنا اہم تھا تو گزشتہ تقریباً 90 برسوں میں اس پر اعتراض کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تب انہوں نے مکمل وندے ماترم کیوں نہیں گایا، اور وزیراعظم بننے کے بعد بھی اس معاملے پر اتنے برسوں تک کوئی فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا۔
کھڑگے نے واضح کیا کہ کانگریس وندے ماترم گانے کی مخالف نہیں ہے۔ ان کے مطابق کانگریس اور اس کا سیوا دل طویل عرصے سے وندے ماترم گاتے رہے ہیں، تاہم پارٹی وہی طریقہ اختیار کررہی ہے جو قومی رہنماؤں کے فیصلے کے مطابق رائج رہا ہے۔ انہوں نے وندے ماترم اور قومی ترانے جن گن من کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن گن من بھی اصل میں پانچ بندوں پر مشتمل تھا، لیکن آج اس کا صرف ایک بند گایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق وندے ماترم کے دو بند اور جن گن من کا ایک بند تقریباً یکساں وقت میں مکمل ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کانگریس قومی رہنماؤں کے طے کردہ طریقے پر عمل کررہی ہے تو اسے ملک دشمن کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے وندے ماترم کے معاملے کو ملک میں مبینہ تقسیم اور سیاسی پولرائزیشن کی سیاست سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ایسے مسائل ملک کے لیے فائدہ مند نہیں۔ ان کے مطابق ملک، آئین اور جمہوریت کا تحفظ ہر سیاسی جماعت اور شہری کی ذمہ داری ہے۔
کھڑگے نے ان لوگوں کے بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو مکمل وندے ماترم نہ گانے والوں کو ملک دشمن یا مسلم خوشامد کی سیاست کرنے والا قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد میں کردار ادا کرنے والی قومی قیادت کے فیصلوں پر آج سوال اٹھانا مناسب نہیں، اور حکومت کو قومی مسائل کے بجائے تعلیم، روزگار، مہنگائی، سرمایہ کاری اور غریبوں کی زندگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
اسی دوران ملکارجن کھڑگے نے تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کے مجوزہ دورہ امریکہ کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے سیاسی منظوری نہ دیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزرائے اعلیٰ کے بیرون ملک دورے محض سیاسی سرگرمی نہیں ہوتے بلکہ ان کے ذریعے ریاست میں سرمایہ کاری لانے، صنعتی یونٹس قائم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کھڑگے کے مطابق تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں تارکین وطن امریکہ میں مقیم ہیں، جن سے رابطہ کرکے ریاست میں سرمایہ کاری کے امکانات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگست میں مانسون معمول سے کم، کچھ علاقوں میں سیلاب اور خشک سالی، موسم کے بارے میں مزید جانیں
انہوں نے مرکز کی جانب سے ریونت ریڈی کے دورہ امریکہ کی اجازت نہ دینے کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری ملک اور ریاست دونوں کے مفاد میں ہوتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت جان بوجھ کر ایسی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے اور کہا کہ کسی بھی حکومت کی جانب سے لائی جانے والی سرمایہ کاری بالآخر ملک ہی کے مفاد میں ہوتی ہے۔

