خراب تعلیمی نظام پر آواز اٹھانا جرم نہیں: راہل گاندھی، طلبا پر مبینہ تشدد کی عدالتی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ
راہل نے کہاکہ احتجاج میں شریک نوجوانوں نے بتایاکہ ان پر لاٹھی چارج کیاگیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دھمکیاں بھی دی گئیں۔

Published : August 5, 2026 at 10:52 PM IST
نئی دہلی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک کے خراب اور غیر مؤثر تعلیمی نظام پر سوال اٹھانا یا شکایت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے مستقبل، شفاف امتحانی نظام اور بہتر تعلیم کے لیے آواز بلند کرنے کا مکمل آئینی حق حاصل ہے۔ راہل گاندھی نے یہ بیان مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ایک وفد سے ملاقات کے بعد دیا، جنہوں نے حال ہی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے زیر اہتمام سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ احتجاج میں شریک نوجوانوں نے انہیں بتایا کہ ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں دھمکیاں بھی دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان نوجوانوں پر فخر کرتے ہیں جنہوں نے آئین، جمہوریت اور بھارت کے مستقبل کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت میں تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہے اور اسے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق نوجوانوں کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کے گھروں پر دباؤ ڈالنا اور انہیں خوفزدہ کرنا ناقابل قبول ہے۔ راہل گاندھی نے مطالبہ کیا کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے سلسلے کو مستقل طور پر ختم کیا جائے، نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے اور ایسا تعلیمی نظام تشکیل دیا جائے جو میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع کی ضمانت دے۔ انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ جنتر منتر احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد کی تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایک آزاد اور بااختیار کمیٹی سے کرائی جائیں تاکہ ذمہ دار افراد کا تعین ہو سکے اور متاثرہ طلبہ کو انصاف مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: دفعہ 370 کی منسوخی کے سات سال مکمل، این سی نے کیا جموں میں احتجاج
واضح رہے کہ راہل گاندھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مسلسل حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ طلبہ کے خلاف مبینہ کارروائیوں اور امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے پر جامع بحث کرائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

