ETV Bharat / bharat

مردم شماری 2027: بھارت کی پہلی مکمل ڈیجیٹل مردم شماری، ریئل ٹائم نگرانی کے لیے جدید نظام متعارف

رجسٹرار جنرل مرتینجے کمار نارائن کی جانب سے جاری سرکلر میں بتایا گیا کہ مردم شماری میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال کیا جائے گا۔

مردم شماری 2027: بھارت کی پہلی مکمل ڈیجیٹل مردم شماری، ریئل ٹائم نگرانی کے لیے جدید نظام متعارف
مردم شماری 2027: بھارت کی پہلی مکمل ڈیجیٹل مردم شماری، ریئل ٹائم نگرانی کے لیے جدید نظام متعارف (ANI)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : February 26, 2026 at 3:49 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی : حکومتِ ہند نے مردم شماری 2027 کو مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے سینسس منیجمنٹ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (سی ایم ایم ایس) کے نام سے ایک مرکزی آن لائن پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام دنیا کی سب سے بڑی انتظامی مشقوں میں سے ایک بھارتی مردم شماری کی ریئل ٹائم نگرانی اور مؤثر تکمیل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

رجسٹرار جنرل آف انڈیا مرتینجے کمار نارائن نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز کو جاری کردہ سرکلر میں بتایا کہ مردم شماری 2027 میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال کیا جائے گا تاکہ اعداد و شمار کے جمع کرنے اور اشاعت کے عمل کو زیادہ معیاری، تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار مردم شماری کا ڈیٹا مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے جمع کیا جائے گا، جو اس عمل کی جدیدکاری کی جانب ایک اہم اور انقلابی قدم ہوگا۔ روایتی کاغذی فارم، کلپ بورڈ اور کاربن کاپیز کی جگہ ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز اور جیو ٹیگڈ میپنگ ٹولز استعمال کیے جائیں گے۔

اس وسیع مشق میں تقریباً 32 لاکھ فیلڈ اہلکار جن میں شمار کنندگان اور سپروائزر شامل ہوں گے حصہ لیں گے۔ یہ اہلکار لاکھوں گھروں سے آبادی، سماجی اور معاشی نوعیت کا تفصیلی ڈیٹا ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز کے ذریعہ جمع کریں گے، جو فوری طور پر سی ایم ایم ایس سسٹم کے ذریعہ منتقل، مرتب اور تصدیق کیا جا سکے گا۔ اس طرح ڈیٹا کی تیاری اور غلطیوں کی درستی میں لگنے والا وقت نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔

سی ایم ایم ایس پورٹل مردم شماری کے تمام مراحل کی نگرانی کرے گا، جن میں مختلف سطحوں پر صارفین کی تخلیق، تربیتی ماڈیولز کا انتظام، ہاؤس لسٹنگ بلاکس کی تشکیل، سپروائزری حلقوں کی تقسیم، شمار کنندگان اور سپروائزرز کی تقرری، اور ان کے تقرر نامے و شناختی کارڈز کی تیاری شامل ہے۔ اس نظام میں رول بیسڈ ایکسس کنٹرول بھی ہوگا، جس کے ذریعہ فیلڈ آپریشنز کی نگرانی حقیقی وقت میں ممکن ہو سکے گی۔

مردم شماری میں پہلی مرتبہ ویب بیسڈ میپنگ ایپلی کیشن کے ذریعے ہاؤس لسٹنگ بلاکس کی جیو ٹیگنگ کی جائے گی، جس سے جغرافیائی حدود کی درست نشاندہی ممکن ہوگی اور کسی بھی قسم کے تکرار یا رہ جانے والے علاقوں کے امکانات کم ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق، یہ ڈیجیٹل جغرافیائی ریکارڈ مستقبل میں منصوبہ بندی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

مرکزی کابینہ نے مردم شماری 2027 کے لیے 11,718 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ یہ آزادی کے بعد 16ویں مردم شماری ہوگی اور اس میں پہلی مرتبہ ذات (کاسٹ) کی گنتی بھی شامل ہوگی۔ شہریوں کو خود اندراج کا اختیار بھی فراہم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سینسس کے ساتھ ذات پات کی مردم شماری ہوگی، یکم اکتوبر 2026 سے پہاڑی علاقوں اور ملک بھر میں یکم مارچ 2027 سے عمل کا آغاز

واضح رہے کہ مردم شماری 2021 کو کووڈ-19 وبا کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اب اسے جدید ترین ڈیجیٹل بنیادوں پر انجام دیا جا رہا ہے۔