رام مندر چندہ گھوٹالہ: کانگریس کا بی جے پی اور آر ایس ایس پر شدید حملہ، ’’ووٹ چوری، سیٹ چوری، چندہ چوری‘‘ کا الزام
جئے رام رمیش نے کہاکہ بی جے پی کی سیاست اب تین نکات پر مبنی ہو گئی ہے، "ووٹ چوری، سیٹ چوری اور چندہ چوری"۔

Published : July 5, 2026 at 4:35 PM IST
نئی دہلی: ایودھیا کے رام مندر میں عقیدت مندوں کے عطیات میں مبینہ خرد برد کے معاملے پر کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف سخت محاذ کھول دیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ رام مندر میں ہونے والا مبینہ چندہ گھوٹالہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے پورے نظام (ایکو سسٹم) کی پیداوار ہے، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ بی جے پی کی سیاست اب تین نکات پر مبنی ہو گئی ہے، "ووٹ چوری، سیٹ چوری اور چندہ چوری"۔ ان کا کہنا تھا کہ رام مندر میں جمع ہونے والے ہزاروں کروڑ روپے کے عطیات میں مبینہ بدعنوانی کا معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس کی تحقیقات سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں کرائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا حالیہ بیان نہایت افسوسناک اور شرمناک ہے۔
ان کے مطابق جو تنظیمیں دوسروں کو ایمانداری، حب الوطنی اور کردار کے سرٹیفکیٹ دیتی ہیں، آج وہ خود سنگین الزامات کی زد میں ہیں۔ جئے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔ کانگریس رہنما نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے رام مندر کی تعمیر اور افتتاح کا سیاسی کریڈٹ لیا تھا، لیکن اب جب چندہ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے تو وہ مکمل خاموش کیوں ہیں؟
جئے رام رمیش نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کی خاموشی بھی حیران کن ہے۔ جئے رام رمیش نے الزام لگایا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے بیشتر ذمہ دار افراد بی جے پی اور آر ایس ایس کے قابل اعتماد لوگ ہیں، اس لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اعلیٰ قیادت کو اس معاملے کی کوئی اطلاع نہ ہو۔
انہوں نے سابق پرنسپل سکریٹری نریپیندر مشرا کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پورا نظام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور ایسی بڑی بے ضابطگیاں کسی کی معلومات کے بغیر ممکن نہیں۔ کانگریس نے یاد دلایا کہ الیکٹورل بانڈ اسکیم کو بھی سپریم کورٹ غیر آئینی قرار دے چکی ہے اور ماضی میں بھی بی جے پی پر سیاسی فنڈنگ کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سمگر شکشا کتاب تنازع: ایل جی انتظامیہ نے آٹھ ملازمین کو کیا معطل، انکوائری کا حکم
واضح رہے کہ اتر پردیش حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی ابتدائی رپورٹ کے بعد 25 جون کو اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ پولیس نے آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ تقریباً 80 لاکھ روپے نقد اور کچھ غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ فریقین کی جانب سے مختلف مؤقف بھی سامنے آ رہے ہیں۔

