ETV Bharat / bharat

بی جے پی، آر ایس ایس سے وابستہ افراد کی ایس آئی آر اسسٹنٹ کے طور پر تقرری، کلکٹر نے 'غلطی' تسلیم کر لی

ایم پی کے دتیا میں انتظامیہ نے اعتراف کیاکہ کچھ سیاسی افراد کے نام 'غلطی سے' بی ایل او اسسٹنٹ میں شامل کیے گئے۔

بی جے پی، آر ایس ایس سے وابستہ افراد کی ایس آئی آر اسسٹنٹ کے طور پر تقرری
بی جے پی، آر ایس ایس سے وابستہ افراد کی ایس آئی آر اسسٹنٹ کے طور پر تقرری (IANS)
author img

By PTI

Published : November 25, 2025 at 8:45 AM IST

6 Min Read
Choose ETV Bharat

بھوپال: بی جے پی-آر ایس ایس سے وابستہ افراد کو مدھیہ پردیش کے دتیا ضلع میں بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) کے معاون کے طور پر مقرر کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ انتخابی فہرستوں کی جاری اسپیشل انٹینسیو رویزن (ایس آئی آر) یہ معاملہ سرخیوں میں آنے کے بعد دتیا ضلع کے کلکٹر نے پیر کے روز صفائی دیتے ہوئے اسے ایک 'غلطی' قرار دیا اور حکام سے وضاحت طلب کی۔

دتیا انتظامیہ نے اعتراف کیا کہ سیاسی طور پر کچھ وابستہ افراد کے نام 'غلطی سے' بی ایل او اسسٹنٹ کے طور پر مقرر کر دیے گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ یہ غلطی سے ہوا گیا تھا، اس کا مقصد بدنیتی پر مبنی نہیں تھا اور ایسے ناموں کو بی ایل او اسسٹنٹ فہرست سے ہٹایا جا رہا ہے۔

فہرست کے مطابق الیکشن کمیشن کی اس مہم کو انجام دینے کے لیے ہر بی ایل او کے لیے دو سے تین معاونین تفویض کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے شروع کی گئی ایس آئی آر کی مشق مدھیہ پردیش سمیت 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں 4 نومبر کو شروع ہوئی اور چار دسمبر تک جاری رہے گی۔ مسودہ فہرستیں 9 دسمبر کو شائع کی جائیں گی۔

حالانکہ ایس آئی آر شروع ہوئے 20 دن کا وقت گزر جانے کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس کارکنان کو بی ایل او اسسٹنٹ بنائے جانے کا معاملہ سامنے آیا۔ اپوزیشن کانگریس نے الزام لگایا کہ بی ایل اے کے کچھ معاونین حکمراں بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بارہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر ڈرائیو: ننانوے فیصد تقسیم کیے گئے گنتی فارم

دتیا ضلع کے کلیکٹر سوپنل وانکھڑے نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ بی ایل اے کے معاونین کی فہرست میں تین نام غلطی سے شامل کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "ان لوگوں کا نام شامل کرنے کا حکم میں نے نہیں جاری کیا تھا۔ یہ دتیا اسمبلی (حلقہ) کے ایس ڈی ایم (سب ڈویژنل مجسٹریٹ) نے جاری کیا تھا۔ انہیں عہدیداروں سے یہ فہرست موصول ہوئی اور معلوم ہوا کہ تین نام غلط طریقے سے شامل کیے گئے تھے۔"

کلکٹر نے مزید بتایا کہ انہوں نے ایس ڈی ایم کو نوٹس جاری کر دیا ہے جنہوں نے بعد میں متعلقہ عہدیداروں کو نوٹس جاری کیا۔

"ان افراد کو فہرست سے نکالا جا رہا ہے۔ مختلف محکموں نے معاونین کے لیے نام بھیجے تھے اور غلطی سے تین نام شامل کر دیے گئے تھے۔ کوئی بدنیتی کا معاملہ نہیں تھا۔ افسر (ایس ڈی ایم) کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن انہوں نے غلطی کی ہے۔ ہم نے ان سے وضاحت کرنے کو کہا ہے کہ یہ کیسے ہوا،" ڈی ایم نے زور دے کر کہا۔

وہیں اس معاملے پر مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سب ڈویژنل آفیسر (یا ایس ڈی ایم) اور دتیا ضلع کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک فہرست کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ مقرر کردہ معاونین میں سے چار بی جے پی سے وابستہ ہیں۔

سابق ریاستی وزیر نے فہرست میں بی جے پی کے چار عہدیداروں کے ناموں کو نشان زد کیا۔ اس معاملے پر انہوں نے دتیا ضلع انتظامیہ اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: ایس آئی آر پر کانگریس کی سخت نگرانی، ووٹرز کی مدد کے لیے کارکنوں کو تعینات کیا

پٹواری نے الزام لگایا، "الیکشن کمیشن کے بعد انتظامیہ بھی اب اقتدار میں رہنے والوں اور حکمراں پارٹی کی کٹھ پتلی کی طرح ناچتی نظر آرہی ہے! دتیا کلکٹر کی طرف سے بی جے پی کے ایک سابق صدر سمیت کئی عہدیداروں کو ایس آئی آر کے لیے بی ایل او اسسٹنٹ کے طور پر مقرر کرنے کا سرکاری حکم نامہ ان لوگوں کے دباؤ کی سب سے شرمناک مثال ہے۔" انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے ایس آئی آر کو ایک 'آئینی عمل' قرار دیا، لیکن ہر آئینی طریقہ کار کو پارٹی کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کا آلہ بنایا جا رہا ہے۔''

پٹواری نے اصرار کیا، "ایس آئی آر کو بی جے پی کے رنگ میں رنگنا جمہوریت کی توہین ہے۔ کانگریس اس چال کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ہم ہر ووٹر کے حقوق کے تحفظ کے لیے چوکس ہیں۔"

جب پی ٹی آئی نے نشان زد معاونین کے موبائل فون نمبروں پر کال کی تو ان میں سے ایک نے بی جے پی کے ساتھ وابستگی کا اعتراف کیا، جب کہ دوسرے نے کہا کہ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کانگریس نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے لیے کام کرنے کا لگایا الزام، ایس آئی آر کے خلاف دسمبر میں نکالے گی ریلی

بی ایل او اسسٹنٹ میں سے ایک بوبی راجہ بنڈیلا نے کہا کہ وہ آر ایس ایس سے وابستہ ہیں، جب کہ دوسرے، منیش مشرا نے کہا کہ وہ بھنڈونی قصبے میں بی جے پی کے یوتھ ونگ، بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) سے وابستہ ہیں۔

واضح رہے کہ بی ایل او ایک مقامی نیم سرکاری اہلکار ہے، جو مقامی رائے دہندگان سے واقف ہوتا ہے اور عام طور پر اسی پولنگ ایریا میں ایک ووٹر ہوتا ہے جو اپنے مقامی علم کا استعمال کرتے ہوئے فہرست کو اپ ڈیٹ کرنے میں مدد کرتا ہے۔

درحقیقت، بی ایل او نچلی سطح پر الیکشن کمیشن کا ایک نمائندہ ہوتا ہے جو ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کو تفویض کردہ پولنگ ایریا سے متعلقہ لسٹ کے لیے فیلڈ کی حقیقی معلومات اکٹھا کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے میں 50 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کو گنتی کے فارم دیے گئے، الیکشن کمیشن