کپل مشرا کے خلاف پنجاب میں ایف آئی آر، آتشی کی متنازعہ ویڈیو پر سیاسی و آئینی تنازع گہرا گیا
دہلی کے وزیر آشیش سود نے پنجاب حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے اور سرکاری مشینری کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔

Published : January 10, 2026 at 3:20 PM IST
نئی دہلی: دہلی کی اپوزیشن لیڈر آتشی سے متعلق ایک متنازعہ ویڈیو کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ آتشی کی مبینہ طور پر سکھ گرووں کی توہین کرنے والی ویڈیو کا معاملہ اب پنجاب تک پہنچ گیا ہے، جہاں جالندھر پولیس نے دہلی کے وزیر کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں لفظ ’’گرو‘‘ مبینہ طور پر جوڑ کر ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو میں ہیرا پھیری کے ذریعے ’گرو‘ کا لفظ شامل کیا گیا۔ جالندھر پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایف آئی آر اقبال سنگھ کی شکایت پر درج کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ آتشی نے ویڈیو میں "گرو" کا لفظ نہیں کہا۔ اس معاملے پر دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے اندر ریکارڈ کی گئی ویڈیو ایوان کی ملکیت ہے اور اس بنیاد پر ایف آئی آر درج کرنا ایوان کے استحقاق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے جالندھر پولیس کمشنر کو طلب کرنے کی بات بھی کہی۔
دہلی کے وزیر آشیش سود نے پنجاب حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے اور سرکاری مشینری کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو پہلے ہی فارنسک جانچ کے لیے بھیجی جا چکی ہے اور اس کے باوجود ایف آئی آر درج کرنا قابل اعتراض ہے۔ یہ معاملہ اب محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہا بلکہ آئینی اختیارات، اسمبلی کے استحقاق اور بین الریاستی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کالکاجی میں انہدامی کاروائی کے خلاف احتجاج، دہلی کی سابق وزیراعلیٰ آتشی گرفتار
ایف آئی آر کے بارے میں مشرا نے اپنے ایکس ہینڈل پر پوسٹ کیا، "کیجریوال جی، آپ کی ایف آئی آر اور پولیس کا خوف ہمیں نہیں ڈرا سکتا، ویڈیو دہلی اسمبلی کے ریکارڈ میں ہے اور پوری دنیا نے ویڈیو دیکھا ہے، اسپیکر کے کئی بار فون کرنے کے باوجود، آتشی نے اسمبلی میں آنے کی ہمت نہیں کی۔ ایل او پی نے ایک جرم کیا ہے، لیکن اس کی حفاظت کرکے آپ اس سے بھی بڑا گناہ کر رہے ہیں۔"

