امت شاہ نے نئے فوجداری قوانین کو سو فیصد لاگو کرنے کے لیے ایک سال کے وقت کی حد مقرر کر دی
20 سال آگے کے سکیورٹی چیلنجوں کا اندازہ لگانے اور انہیں بڑے خطروں میں تبدیل ہونے سے روکنے کےلیے حکمتِ عملی بنانے کی ضرورت ہے۔


Published : August 26, 2026 at 10:08 AM IST
نئی دہلی: مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے منگل کے روز تین نئے فوجداری قوانین کو 100 فیصد نافذ کرنے کے لیے ایک سال کی ڈیڈ لائن (وقت کی حد) مقرر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے فوجداری مقدمات کا فیصلہ سپریم کورٹ تک تین سال کے اندر ہو سکے گا اور مجرموں کو سزا دلانے کی شرح (کنوکشن ریٹ) میں 25 فیصد کا اضافہ ہوگا۔
منگل کے روز ختم ہونے والی انٹیلیجنس بیورو کی دو روزہ نویں نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی (NSS) کانفرنس-2026 کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے، شاہ نے کہا کہ این ایس ایس پلیٹ فارم کو 15 سے 20 سال آگے کے سکیورٹی چیلنجوں کا اندازہ لگانے اور انہیں بڑے خطروں میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
برطانوی دور کے انڈین پینل کوڈ کی تبدیلی
بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS)، بھارتیہ ناگرک سورکشا سنہیتا (BNSS) اور بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم (BSA) 1 جولائی 2024 سے لاگو ہو چکے ہیں۔ ان نئے قوانین نے بالترتیب برطانوی دور کے انڈین پینل کوڈ (IPC)، کوڈ آف کرمنل پروسیجر (CrPC) اور انڈین ایویڈنس ایکٹ کی جگہ لی ہے۔
کرائم اینڈ کرمنل ٹریکنگ نیٹ ورک
وزیرِ داخلہ نے کہا، 'اگلے ایک سال میں ان تین نئے قوانین کو 100 فیصد لاگو کیا جائے گا، تاکہ فوجداری مقدمات کا فیصلہ سپریم کورٹ تک تین سال کے اندر ہو سکے اور سزا دلانے کی شرح میں 25 فیصد کا اضافہ ہو۔' انہوں نے بتایا کہ کرائم اینڈ کرمنل ٹریکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹمز (CCTNS)، انٹر-آپریبل کرمنل جسٹس سسٹم (ICJS)، نیٹ گرڈ (NatGrid) اور نیشنل آٹومیٹڈ فنگر پرنٹ آئیڈنٹی فیکیشن سسٹم (NAFIS) کا ایک مربوط (انٹیگریٹڈ) ڈیٹا بینک بنایا گیا ہے۔
ڈیٹا انٹیگریشن معلومات کے جمع کرنے پر کارروائی
شاہ نے کہا کہ تمام نوجوان افسران کو ڈیٹا انٹیگریشن، تجزیہ اور اے آئی (AI) کے ذریعے کام کے طریقوں کی شناخت کر کے ایسی معلومات جمع کرنی چاہئیں جس پر کارروائی کی جا سکے، تاکہ مستقبل کے چیلنجوں کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اندرونی سلامتی کے لیے خطرہ بنے تین بڑے ہاٹ اسپاٹس- نکسل ازم، جموں و کشمیر میں دہشت گردی اور شمال مشرق (نارتھ ایسٹ) میں انتہا پسندی سے جڑے چیلنجوں کو ختم کر دیا ہے اور اس کامیابی کا سہرا تمام ریاستوں کی پولیس فورس، مرکزی ایجنسیوں اور مرکزی مسلح پولیس فورسز (CAPFs) کے سر باندھا۔
سرحدی سکیورٹی کے لیے 'ہمہ جہت حکمتِ عملی'
شاہ نے کہا کہ اگر پچھلی حکومتوں نے منشیات، نکسل ازم اور شمال مشرق کے مسائل کو ان کے سنگین ہونے سے پہلے ہی بھانپ لیا ہوتا، تو ملک کو دہائیوں تک ان کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑتا۔ شاہ نے کہا کہ ایک ہی رات میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) پر پابندی لگانا اور اس کے پورے کیڈر کو ختم کرنا مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل کی ایک 'بہترین مثال' ہے۔ وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ مہینوں میں انہوں نے زمینی سرحد سے جڑی تمام ریاستوں کا دورہ کیا اور انہیں سرحدی سکیورٹی کے لیے ایک 'ہمہ جہت حکمتِ عملی' (چو طرفہ حکمتِ عملی) والی دستاویز سونپی۔

