فارسٹ ایکٹ میں ترمیم سے جنگلات کی نجکاری کی راہ ہموار ہو گئی: کانگریس کا الزام
جے رام رمیش نے اس حوالے سے مرکزی وزارت ماحولیات کے حالیہ سرکلر کو ثبوت کے طور پر سوشل میڈیا پر پیش کیا ہے۔

Published : January 7, 2026 at 3:42 PM IST
نئی دہلی: کانگریس نے بدھ کے روز الزام عائد کیا کہ سال 2023 میں فاریسٹ (کنزرویشن) ایکٹ میں کی گئی ترامیم نے ملک میں جنگلات کے انتظام و انصرام کو نجی اداروں کے حوالے کرنے کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور سابق مرکزی وزیرِ ماحولیات جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر مرکزی وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے 2 جنوری 2026 کو جاری کردہ ایک سرکلر کی اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی۔
In August 2023, the Modi Government had bulldozed amendments to the Forest (Conservation) Act, 1980 through Parliament. Apart from renaming this law as the Van (Sanrakshan Evam Samvardhan) Adhiniyam, 1980, these amendments had introduced far-reaching changes in the legal regime… pic.twitter.com/p8OTCyUMQ3
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) January 7, 2026
جے رام رمیش نے کہا کہ اگست 2023 میں مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں فاریسٹ (کنزرویشن) ایکٹ 1980 میں ترامیم زبردستی منظور کروائیں۔ محض قانون کا نام بدل کر ون (سنرکشن ایوم سموردھن) ادھی نیم 1980 رکھنا ہی نہیں بلکہ جنگلات کی حکمرانی کے پورے قانونی ڈھانچے میں دور رس تبدیلیاں کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہی کانگریس نے خبردار کیا تھا کہ یہ ترامیم جنگلات کی نجکاری کا راستہ کھول دیں گی، اور اب 2 جنوری 2026 کا سرکلر اسی خدشے کی تصدیق کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف شروعات ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید نمایاں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 'دوست دوست نہ رہا': کانگریس نے ٹرمپ کے حالیہ اقدامات پر پی ایم مودی کو بنایا تنقید کا نشانہ
سرکلر کے مطابق اگر ریاستی حکومتیں مرکزی یا غیر مرکزی اداروں کے ساتھ باہمی رضامندی سے شجرکاری، جنگلات کی بحالی یا قدرتی افزائش کے منصوبے نافذ کرتی ہیں تو انہیں جنگلاتی سرگرمی تصور کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ تو معاوضی شجرکاری کی شرط لاگو ہوگی اور نہ ہی نیٹ پریزنٹ ویلیو کی ادائیگی ضروری ہوگی۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بڑے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچے گا اور قدرتی جنگلات کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ حکومت اسے ’’اصلاحات‘‘ کا نام دے رہی ہے۔

