ایئر انڈیا کا بڑا فیصلہ: اب تمام پائلٹس کا ہوگا ڈرگ ٹیسٹ
فُکیت دہلی پرواز کے معاملے میں صرف پائلٹ کے ٹیسٹ کو ہی نہیں بلکہ طیارے کے تکنیکی نظام کو بھی جانچ کا حصہ بنایاگیا ہے۔

Published : August 13, 2026 at 8:41 PM IST
نئی دہلی : فُکیت سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں اچانک تقریباً 300 فٹ بلندی کم ہونے اور 24 افراد کے زخمی ہونے کے واقعے کے بعد ایئر انڈیا اور ایئر انڈیا ایکسپریس نے اپنے تمام پائلٹس کے لیے سائیکو ایکٹیو سبسٹنس ٹیسٹنگ لازمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ایئر لائنز کے 5 ہزار سے زائد پائلٹس اس نئی اسکریننگ کے دائرے میں آئیں گے۔ ایئر انڈیا کے اندرونی پیغام کے حوالے سے رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ممنوعہ نشہ آور اشیا یا ایسی ادویات کی جانچ کی جائے گی جو موجودہ ہوا بازی قوانین کے تحت پائلٹس کے لیے قابل اجازت نہیں ہیں۔
4 اگست 2026 کو ایئر انڈیا کی پرواز AI2379 فُکیت سے نئی دہلی جارہی تھی۔ پرواز کے دوران طیارے نے اچانک تقریباً 300 فٹ کی بلندی کھو دی، جس کے نتیجے میں طیارے میں موجود مسافروں اور عملے میں سے کم از کم 24 افراد زخمی ہوئے۔ ایئربس A320 طیارے میں مجموعی طور پر 145 افراد سوار تھے، جن میں 137 مسافر اور 8 رکنی عملہ شامل تھا۔ واقعے کے بعد دونوں پائلٹس کا لازمی سائیکو ایکٹیو سبسٹنس ٹیسٹ کیا گیا۔
کمانڈر کے ابتدائی ٹیسٹ میں تشویش کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد نمونہ مزید تصدیق کے لیے مقررہ لیبارٹری بھیجا گیا، جہاں دوبارہ کیے گئے ٹیسٹ میں ماریجوانا کی موجودگی کی تصدیق ہونے کی اطلاع دی گئی۔ تاہم تحقیقات کے اس مرحلے پر یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ پائلٹ کے ٹیسٹ میں سامنے آنے والی ماریجوانا ہی طیارے کے اچانک 300 فٹ نیچے آنے کی وجہ تھی۔ حادثے کی وجوہات کا تعین متعلقہ تحقیقاتی ادارے کررہے ہیں۔ ایئر انڈیا نے اس واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرتے ہوئے تمام پائلٹس کی اسکریننگ کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹیسٹنگ مختلف مقامات پر کی جائے گی، جن میں گروگرام کی ایئر لائن اکیڈمی، پرواز کے بعد بریفنگ سینٹرز، ایئر لائن کے دفاتر اور متعلقہ بیسز شامل ہیں۔ اسکریننگ کو پائلٹس کی تربیت اور دیگر معمول کی سرگرمیوں کے ساتھ انجام دیا جائے گا۔ ایئر انڈیا کا مقصد بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے حفاظتی معیار کو مزید مضبوط کیا جائے اور مسافروں، عملے اور دیگر متعلقہ فریقوں کا اعتماد برقرار رکھا جائے۔
فُکیت دہلی پرواز کے معاملے میں صرف پائلٹ کے ٹیسٹ کو ہی نہیں بلکہ طیارے کے تکنیکی نظام کو بھی جانچ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پرواز کے بعد تیار ہونے والی ایک مبینہ مینٹیننس رپورٹ میں طیارے کے مختلف ہائیڈرولک سسٹمز، فلائٹ کنٹرولز اور آٹو پائلٹ سے متعلق متعدد وارننگز درج تھیں۔ ان میں مختلف ہائیڈرولک نظاموں میں کم دباؤ، بعض ریزروائرز میں کم فلوئڈ لیول، دو مرتبہ آٹو پائلٹ کے منقطع ہونے اور ایلیویٹر فلائٹ کنٹرول سے متعلق وارننگز شامل ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر انڈیا کی فوکٹ دہلی پرواز میں ہچکولے کا واقعہ: دونوں پائلٹ روسٹر سے ہٹائے گئے
واقعہ کی تحقیقات ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) اور ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کررہے ہیں۔ واقعے کو سنگین نوعیت کا ایوی ایشن انسیڈنٹ قرار دیا گیا ہے۔ تحقیقاتی ادارے پرواز کے ڈیٹا، طیارے کے تکنیکی نظام، پائلٹس کے اقدامات، مینٹیننس ریکارڈز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایئر بس اور فرانس کے متعلقہ ماہرین بھی تکنیکی تحقیقات میں معاونت کررہے ہیں۔

