بارش نہ روک سکی سی جے پی کا احتجاج: جنتر منتر دھرنا 20ویں دن بھی جاری، سونم وانگچک نے پارلیمنٹ مارچ کا عزم ظاہر کیا
دارالحکومت دہلی میں مسلسل بارش کے باوجود جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا دھرنا جمعرات کو 20ویں دن بھی جاری رہا۔


Published : July 9, 2026 at 12:16 PM IST
نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں مسلسل بارش کے باوجود جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا دھرنا جمعرات کو 20ویں دن بھی جاری رہا۔ شدید بارش کے باوجود مظاہرین ترپالوں اور رین کوٹ کی مدد سے احتجاجی مقام پر موجود رہے اور اپنے مطالبات کے لیے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کا احتجاج کی حمایت میں غیر معینہ مدت کا انشن 12ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دوران بھوک ہڑتال کرنے والے طالب علم ہریکیش کی طبیعت خراب ہونے کے بعد اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ مظاہرین مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور طلباء کے مسائل پر ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
PEACEFUL MARCH TO THE PARLIAMENT, 20th JULY
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 8, 2026
Thanks for all your messages to break my Hunger Strike, but that wouldn't help the 20 students who committed suicide nor will that help protect the mountains of Ladakh or the rivers of India. If you really want to help then do a little… pic.twitter.com/XvQ1CRIlTW
بارش کے باوجود مظاہرین ثابت قدم ہیں
دہلی-این سی آر میں مسلسل بارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا ہے اور ٹریفک میں خلل پڑا ہے، لیکن اس سے جنتر منتر پر جاری احتجاج پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے درمیان مظاہرین صبح سے ہی احتجاجی مقام پر موجود ہیں۔ کئی احتجاجی ترپالوں کے نیچے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ موسم کوئی بھی ہو، جب تک حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتی جدوجہد جاری رہے گی۔
While PM Modi is enjoying his trip abroad, people at Jantar Mantar are still waiting for him to break his silence on paper leaks and the suicides of students.
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) July 9, 2026
Situation at Jantar Mantar after a heavy downpour. 👇🏻 pic.twitter.com/NvIOK4pQxB
فاسٹ توڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا
سونم وانگچک نے فاسٹ کے دوران ملک بھر سے ملنے والی حمایت اور فاسٹ ختم کرنے کی اپیلوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ انہیں پیغامات بھیج رہے ہیں کہ وہ اب اپنا فاسٹ ختم کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکمل طور پر مضبوط محسوس کر رہے ہیں اور اس وقت ان کی حالت مستحکم ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اگر آج کا فاسٹ ختم ہو بھی جاتا ہے تو اس سے مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے طلباء کو انصاف نہیں ملے گا اور نہ ہی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ تحریک صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ لاکھوں طلباء، تعلیمی نظام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے متعلق ہے۔ طلباء کے ساتھ سونم وانگچک نے بھی ماحولیاتی تحفظ کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وقت پر سنجیدہ پالیسی فیصلے نہ کیے گئے تو لداخ کے پہاڑوں، ہمالیہ اور ہندوستان کے دریاؤں کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ماحول دونوں ہی ملک کے مستقبل سے براہ راست جڑے ہوئے مسائل ہیں اور انہیں سیاسی نہیں بلکہ قومی مفاد کے نقطۂ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔
Day 20 at Jantar Mantar pic.twitter.com/UsZ3MI5WLU
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) July 9, 2026
20 جولائی کو پارلیمنٹ تک پرامن مارچ کی اپیل
سونم وانگچک نے اپنے حامیوں سے 20 جولائی کو دہلی پہنچنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہوگا اور وہ جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک پرامن مارچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ وہ جگہ ہے جہاں ملک کے لیے اہم فیصلے کیے جاتے ہیں اور اگر شہری پرامن طریقے سے اپنے نمائندوں تک اپنی رائے پہنچائیں تو اس معاملے پر جامع بات چیت ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ صرف سوشل میڈیا پر پیغامات بھیجنے سے تبدیلی نہیں آئے گی۔ اگر لوگ واقعی اس تحریک اور ملک کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں تو انہیں دہلی آکر جمہوری طریقے سے حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے حامیوں سے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بڑی عوامی شرکت عوام کی آواز کو حکومت اور پارلیمنٹ تک مضبوطی سے پہنچائے گی۔
اگر میری فکر ہے تو میدان میں آؤ
وانگچک نے کہا کہ طبی طور پر اگلے چند دنوں تک صحت پر کسی سنگین اثرات کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم اس کے بعد ان کی صحت مزید بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ صحیح معنوں میں صحت مند رہنا چاہتے ہیں اور تحریک کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو انہیں محض پیغامات بھیجنے کی بجائے اس مہم میں جمہوری طریقے سے حصہ لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں سے ہی تعلیم اور ماحولیات جیسے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ دھرنے میں شریک مظاہرین کا کہنا ہے کہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تعلیمی نظام سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے اور حکومت مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر کوئی فیصلہ نہیں لیتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی ایک تنظیم تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک بھر کے طلباء، نوجوانوں اور باشعور شہریوں کی آواز بن چکی ہے۔

