کشمیری کسان سال بھر کی محنت اپنے سامنے بوسیدہ ہوتے دیکھنے پر مجبور - KASHMIRI GIRAN APPLE
🎬 Watch Now: Feature Video

Published : September 26, 2025 at 5:15 PM IST
اننت ناگ: وادی کشمیر کے باغات اور سڑکوں کے کنارے بکھرے سیب جنہیں مقامی زبان میں ’’گِران‘‘ (Giran) کہا جاتا ہے، کسانوں کی سال بھر کی محنت پر بھاری پڑ گئے ہیں۔ قرض، منڈی تک رسائی نہ ہونے اور شاہراہ کی مسلسل بندش نے کسانوں کی کمر پہلے ہی توڑ دی ہے۔
خشک سالی، ژالہ باری، قدرتی آفات، مارکیٹس کی تنگی، قیمتوں میں گراوٹ، ٹرانسپورٹ کی کمی ترسیلی نظام میں رکاوٹ، غیر معیاری ادویات اور دیگر کئی مسائل سے یہ صنعت پہلے ہی نقصانات سے دوچار ہے اور اب کسانوں کا دعویٰ ہے کہ رواں برس 30 سے 50 فیصد سیب ضائع ہو گئے ہیں۔
سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ واحد شاہراہ یعنی سرینگر جموں نیشنل ہائی وے پر انحصار خطرناک ہے اور متبادل راستوں اور مستقل ریل کنکشن کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
کشمیر کی معیشت کا 8 فیصد سیب کی صنعت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر اس صنعت کو بچانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں افراد کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اننت ناگ: وادی کشمیر کے باغات اور سڑکوں کے کنارے بکھرے سیب جنہیں مقامی زبان میں ’’گِران‘‘ (Giran) کہا جاتا ہے، کسانوں کی سال بھر کی محنت پر بھاری پڑ گئے ہیں۔ قرض، منڈی تک رسائی نہ ہونے اور شاہراہ کی مسلسل بندش نے کسانوں کی کمر پہلے ہی توڑ دی ہے۔
خشک سالی، ژالہ باری، قدرتی آفات، مارکیٹس کی تنگی، قیمتوں میں گراوٹ، ٹرانسپورٹ کی کمی ترسیلی نظام میں رکاوٹ، غیر معیاری ادویات اور دیگر کئی مسائل سے یہ صنعت پہلے ہی نقصانات سے دوچار ہے اور اب کسانوں کا دعویٰ ہے کہ رواں برس 30 سے 50 فیصد سیب ضائع ہو گئے ہیں۔
سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ واحد شاہراہ یعنی سرینگر جموں نیشنل ہائی وے پر انحصار خطرناک ہے اور متبادل راستوں اور مستقل ریل کنکشن کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
کشمیر کی معیشت کا 8 فیصد سیب کی صنعت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر اس صنعت کو بچانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں افراد کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

