سہارنپور میں طالبہ نے چھیڑ چھاڑ سے تنگ آکر اپنی ہی جان لی
سب سے پہلے طالبہ نے سارا واقعہ اپنی والدہ کو بتایا لیکن ماں نے یہ نہیں سوچا کہ اس کی بیٹی انتہائی قدم اٹھائے گی۔

Published : May 27, 2025 at 2:15 PM IST
سہارنپور، اترپردیش: یوپی کے سہارنپور کے بہاری گڑھ تھانہ علاقے میں 10ویں جماعت کی طالبہ نے خوفناک قدم اٹھایا۔ ایک اوباش نوجوان کی پریشان کرنے والی حرکتوں سے دلبرداشتہ طالبہ نے مبینہ طور خودکشی کرلی۔ طالبہ نے سوشل میڈیا پر اپنی بپتا سناتے ہوئے انتہائی قدم اٹھایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو وائرل ہوتے ہی محکمۂ پولیس میں کھلبلی مچ گئی۔
طالبہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ معلومات کے مطابق گرفتار نوجوان نے طالبہ کے ساتھ نہ صرف فحش حرکات کی بلکہ اس کی پٹائی بھی کی۔ آپ کو بتا دیں کہ پیر کی دیر شام سوشل میڈیا پر ایک لڑکی کا ویڈیو وائرل ہوا تھا۔ ویڈیو میں لڑکی نے خودکشی کرلی۔ ویڈیو بناتے وقت وہ کافی پریشان نظر آرہی تھیں۔
ماں نے نہیں سوچا تھا بیٹی ایسا کرے گی
الزام ہے کہ دسویں جماعت کی طالبہ نے چھیڑ چھاڑ اور مارپیٹ سے پریشان ہوکر یہ خودکشی کا قدم اٹھایا۔ مرنے سے پہلے طالبہ نے سارا واقعہ اپنی ماں کو بتا دیا تھا لیکن ماں نے نہیں سوچا تھا کہ اس کی بیٹی جان دے دے گی۔
ٹیوشن جانے کے دوران چھیڑ چھاڑ کی اور مارا
طالبہ کی والدہ نے بتایا کہ اس کی بیٹی ہفتہ کو ٹیوشن گئی تھی۔ واپسی کے دوران راستے میں ایک نوجوان نے اسے روکا۔ جس نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اور جب اس نے احتجاج کیا تو اسے سڑک کے بیچوں بیچ مارا۔ نوجوان کی حرکتوں سے دلبرداشتہ بیٹی نے خودکشی کرلی۔ متاثرہ کی والدہ کی شکایت پر پولیس نے ملزم نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کا بیان
ایس پی سدھارتھ ورما نے بتایا کہ نوجوان لڑکی کا لائیو ویڈیو پیر کی رات دیر گئے سامنے آیا۔ جس میں اس نے آن لائن آکر خودکشی کرلی۔ ملزم نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ طالبہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
نوٹ: خودکشی کوئی حل نہیں ہے
اگر آپ خودکشی کے خیالات رکھتے ہیں یا آپ کسی دوست کے بارے میں پریشان ہیں یا آپ کو جذباتی سہارے کی ضرورت ہے، تو کوئی ہے جو آپ کی بات سننے کے لیے ہمیشہ موجود ہے۔ سنیہا فاؤنڈیشن - 04424640050 (24x7) دستیاب ہے یا iCall، ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز ہیلپ لائن - 9152987821 پر کال کریں (پیر سے ہفتہ صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک دستیاب ہے)۔

