تلنگانہ: عصمت دری اور قتل کیس میں ملزم کو سزائے موت، خصوصی پوکسو عدالت کا فیصلہ
نلگنڈہ کی ایک خصوصی پوکسو عدالت نے 11 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور وحشیانہ قتل معاملے میں ملزم کو موت کی سزا سنائی ہے۔

Published : August 15, 2025 at 2:37 PM IST
حیدرآباد: تلنگانہ کے نلگنڈہ میں ایک خصوصی پوکسو عدالت نے جمعرات کو ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے سنہ 2013 میں ایک 11 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور وحشیانہ قتل معاملے میں ملزم محمد مکرم کو موت کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ ایس سی/ ایس ٹی عدالت کے جسٹس روج رامنی نے سنایا۔
استغاثہ کے مطابق یہ واقعہ 28 اپریل سنہ 2013 کو نلگنڈہ ضلع ہیڈکوارٹر حیدرکھنگوڈہ میں پیش آیا جب مقامی شخص محمد مکرم جو کہ چھوٹی موٹی نوکری کرتا تھا، نے لڑکی کو کریانہ کی دکان سے سامان خریدنے کے لیے رقم دینے کے بہانے اپنے گھر لے گیا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
جنسی زیادتی کے بعد قتل
جانکاری کے مطابق مکرم نے نہ صرف اس کی عصمت دری کی بلکہ بعد میں گلا دبا کر اسے قتل کر دیا۔ یہی نہیں، اس نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے سے پہلے اس کی لاش کو پاس میں واقع پانی کے ایک گڑھے میں پھینک دیا۔ پولیس نے جانچ کے بعد ملزم مکرم کو گرفتار کر لیا اور پوری چھان بین کے بعد عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ تفصیلی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو عصمت دری اور قتل کے الزامات کا قصوروار قرار دیا۔
سزائے موت کی سزا
جج روج رامنی نے اس معاملے میں ملزم محمد مکرم کو سزائے موت سنائی اور ایک لاکھ روپے سے زائد جرمانہ بھی عائد کیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے حکومت کو متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا اور ان کو ہوئے بھاری نقصان کو تسلیم کیا۔
سرکاری وکیل ویمولا رنجیت کمار نے استغاثہ کی جانب سے کیس کی نمائندگی کی اور ٹھوس شواہد پیش کیے جن کی بنیاد پر ملزم کو قصوروار قرار دیا گیا۔ اس فیصلے کو بچوں کو نشانہ بنانے والے جرائم کے خلاف ایک مضبوط پیغام سمجھا جا رہا ہے، جس سے پوکسو ایکٹ کے تحت انصاف کو برقرار رکھنے کے عدلیہ کے عزم کو تقویت ملتی ہے۔
مزید پڑھیں: جھارکھنڈ کا نوجوان ریپ کے الزام سے بری، متاثرہ کے ساتھ شادی کے بعد دو بچوں کا باپ بن گیا
ممبئی کے دادر میں لیڈی ٹیچر گرفتار، سولہ سالہ طالب علم کے ساتھ جنسی زیادتی کا ہے الزام
ویڈیو بنا کر بلیک میل کیا پھر گینگ ریپ بیلگام میں دل دہلا دینے والا واقعہ

