ہم ساتھ ساتھ ہیں: 20 سال بعد ادھو اور راج ٹھاکرے نے اسٹیج شیئر کیا، مہاراشٹرا میں سیاست گرم
راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے نے 20 سال بعد اسٹیج شیئر کرکے مہاراشٹرا کی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔

Published : July 5, 2025 at 3:08 PM IST
ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست کے ایک اہم لمحے میں، رشتہ کے دو بھائی ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے نے ہفتہ کو 20 سال میں پہلی مرتبہ نہ صرف اسٹیٹ شیئر کیا بلکہ اتحاد کا ہاتھ بھی بڑھایا۔ تین زبانوں کی پالیسی پر حکومتی احکامات کی واپسی کے موقع پر 'فتح ریلی' منعقد کی گئی جس میں شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کرکے مہاراشٹرا کی سیاست میں ہلچل مچادی۔
فتح ریلی، ممبئی کے این ایس سی آئی ڈوم میں منعقد کی گئی۔ یہ مقام شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما اور ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے کے اسمبلی حلقے میں آتا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہاکہ "بہت سالوں کے بعد، راج اور میں ایک ساتھ اسٹیج شیئر کر رہے ہیں۔ ہماری تقریروں سے زیادہ یہ ضروری ہے کہ لوگ ہمیں ایک ساتھ دیکھیں۔" انہوں نے ایم این ایس کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دیتے ہوئے کہاکہ "ہم ایک ساتھ رہنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ "جب میں (مہاراشٹر کا) وزیر اعلیٰ تھا، تو میں نے مراٹھی زبان کے فروغ کےلئے بہت کام کیا اور مجھے اس پر فخر ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں بٹو گے تو کٹو گے کا نعرہ لگاکر گجرات، ہریانہ اور مہاراشٹرا انتخابات میں لوگوں کو بانٹ دیا اور جیت حاصل کی۔
شیوسینا (یو بی ٹی) کے سپریمو نے وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں کسان مصیبت میں ہیں، وزیر اعظم مختلف ممالک سے ملنے والے انعامات کی نمائش کر رہے ہیں۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بنایا۔
راج ٹھاکرے نے کہا کہ انہیں اور ان کے بھائی ادھو ٹھاکرے کو ساتھ لا کر وزیر اعلیٰ فڑنویس نے وہ کام کیا جو بالا صاحب ٹھاکرے نہیں کر سکے۔ راج ٹھاکرے نے مزید کہا کہ تقریباً 20 سال بعد وہ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ اسٹیج شیئر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت نے مراٹھی لوگوں کے مضبوط اتحاد کی وجہ سے تین زبانوں کے فارمولے پر فیصلہ واپس لے لیا۔
ایم این ایس سربراہ نے کہا کہ تین زبانوں کے فارمولے پر فیصلہ ممبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنے کی سازش کا ایک اہم حصہ تھا۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ جنوبی ہند کے کئی سیاسی رہنما اور فلمی شخصیات نے انگریزی اسکولوں میں تعلیم حاصل کی، لیکن انہیں تمل اور تیلگو زبانوں پر فخر ہے۔
واضح رہے کہ پرائمری اسکولوں میں تین زبانوں کی پالیسی کو واپس لینے کے مہاراشٹر حکومت کے فیصلے کا جشن منانے کے لیے ہفتہ کو ممبئی میں ایک مشترکہ 'وشال وجے سبھا' کا انعقاد کیا گیا۔ دونوں کزنز کو آخری بار 2005 میں مالوان اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے انتخابی مہم کے دوران اسٹیج شیئر کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جب سابق وزیر اعلیٰ نارائن رانے نے غیر منقسم شیوسینا چھوڑ دی تھی۔ راج ٹھاکرے نے اس سال سے کچھ دیر پہلے شیو سینا چھوڑ کر 2006 میں ایم این ایس کی تشکیل کی۔
ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں آج ہفتہ کو ایک نیا باب لکھا گیا۔ تقریباً 20 سال بعد ادھو اور راج ٹھاکرے کو ایک ہی اسٹیج پر ایک ساتھ دیکھا گیا۔ دونوں بھائی مراٹھی بمقابلہ ہندی زبان کے معاملے پر اکٹھے ہوئے ہیں۔ دونوں بھائیوں نے ریاست میں ہندی کے نفاذ کی سخت مخالفت کی۔ معاملے کو آگے بڑھتے دیکھ کر سی ایم دیویندر فڑنویس نے اس حکم کو واپس لے لیا جس میں ہندی کو تیسری زبان کے طور پر پڑھانے کا حکم دیا گیا تھا۔ دونوں بھائیوں نے زبردستی ہندی کو مراٹھی شناخت سے جوڑ دیا اور اس پالیسی کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے گجرات پر بھی سوالات اٹھائے۔

