ETV Bharat / jammu-and-kashmir
راجوری میں طالبہ سے بدسلوکی پراستاد معطل طلبہ کا احتجاج
جموں وکشمیر کے ضلع راجوری میں سرکاری اسکول میں طالبہ کے ساتھ استاد نے بدسلوکی کی جس کے بعد طلبہ نے شدید احتجاج کیا

Published : October 1, 2025 at 2:46 PM IST
جموں ( محمد اشرف گنائی) :جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں منگل کے روز ایک سرکاری اسکول کے استاد کو طالبہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد طلبہ نے شدید احتجاج کیا جس پر اعلیٰ افسران فوری طور پر گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کاکورا پہنچ گئے۔
تحصیلدار منجاکوٹ، جازیہ قاظمی نے صحافیوں کو بتایا کہ مجھے اطلاع ملی کہ ایک استاد پر طالبہ کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات لگے ہیں، جس پر طلبہ نے احتجاج شروع کیا۔ اسی وجہ سے ہم فوری طور پر یہاں پہنچے ہیں۔
واقعے کے بعد چیف ایجوکیشن آفیسر (سی ای او) راجوری کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری ہوا، جس کے تحت متعلقہ استاد اعجاز احمد کو فوری طور پر معطل کر کے زونل ایجوکیشن آفیسر، خواس کے دفتر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ معطلی کے دوران انہیں ضابطے کے مطابق سبسٹسنس الاؤنس ملے گا۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ اسکول کے پرنسپل کی جانب سے موصولہ رپورٹ میں سنگین نوعیت کے الزامات درج ہیں، جو ایک سرکاری ملازم کے کردار، دیانت اور ساکھ پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ اس لیے آزاد اور منصفانہ انکوائری کو یقینی بنانے اور ادارے و طلبہ کے مفاد کے تحفظ کے لیے فوری انتظامی کارروائی ناگزیر تھی۔
مزید پڑھیں: بانہال میں حاملہ خاتون کو نازیبا طریقے سے چھونے پر ڈاکٹر گرفتار اور معطل
سی ای او نے مزید کہا کہ چونکہ الزامات انتہائی سنگین ہیں اور امکان ہے کہ استاد انکوائری پر اثرانداز ہو سکتا ہے یا گواہوں کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے انکوائری مکمل ہونے تک انہیں معطل کیا جا رہا ہے۔ پولیس میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی بھی جاری ہے۔

