ETV Bharat / jammu-and-kashmir
آپریشن سندور کے بعد پاکستانی فائرنگ سے بے گھر کنبوں کو ملیں گے مفت مکانات
آپریشن سندور کے جواب میں پاکستان نے ایل او سی، آئی بی پر شدید گولہ باری کی جس سے سینکڑوں ڈھانچے تباہ ہوئے تھے۔

Published : September 13, 2025 at 5:29 PM IST
سرینگر: شمالی کشمیر کےکپوارہ ضلع میں ٹنگڈار علاقے کے بتہ پورہ گاؤں میں مئی کے مہینے میں جب لائن آف کنٹرول کے قریب دھماکوں اور گولی باری کی آوازیں گونج رہی تھیں تو 44 سالہ نذیر احمد وڈو اپنے خاندان کو ایک چھوٹے کمرے میں سمیٹنے پر مجبور ہوئے۔ اسی دوران ایک مارٹر گولہ ان کی کمرشل ٹیکسی پر آ گرا جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور چند ہی لمحوں میں نصف درجن سے زائد رہائشی مکانات خاکستر ہو گئے۔ نذیر احمد اپنے اہلِ خانہ اور ہمسایوں کے ساتھ کسی طرح جان بچانے میں کامیاب تو ہو گئے لیکن اپنا سب کچھ کھو بیٹھے۔
آج تین ماہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اپنی بیوی، دو بیٹوں اور ایک دختر کے ساتھ ایک عارضی شیلٹر میں رہنے پر مجبور ہیں، جو اس جگہ کے قریب بنایا گیا ہے جہاں کبھی ان کا دو منزلہ مکان موجود تھا۔ نذیر احمد کہتے ہیں: ’’ہم سڑک پر دوڑتے ہوئے نکلے اور ہماری آٹھ کمروں پر مشتمل دو منزلہ حویلی لمحوں میں راکھ بن گئی۔ میں نے اپنی آمدنی کا واحد ذریعہ بھی کھو دیا کیونکہ وہی ٹیکسی جو میں چلاتا تھا ابھی تک مرمت کی منتظر ہے۔ انشورنس جنگ میں ہونے والے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتا۔‘‘
یہ صرف نذیر احمد کی کہانی نہیں، بلکہ سینکڑوں خاندان اس وقت بے گھر ہیں اور سردیوں سے پہلے اپنے سروں پر چھت ڈھونڈنے کی جدوجہد میں ہیں۔ آپریشن سندور کے بعد جموں کشمیر میں پاکستانی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے متعدد گاؤں متاثر ہوئے اور کئی مکانات تباہ ہو گئے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب بھارتی فضائیہ نے 22 اپریل کے پہلگام حملے کے جواب میں پاکستان اور پاکستانی زیر قبضہ کشمیر کے اندر مبینہ دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ پہلگام حملے میں 25غیر مقامی سیاح اور ایک مقامی گھوڑے بان ہلاک ہوئے تھے۔

’آپریشن سندور‘ کے جواب میں پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کی جس میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد (آئی بی) پر شدید گولہ باری کی گئی جبکہ ڈرون اور میزائل حملوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔ پاکستانی گولہ باری سے جموں سمیت وادی کشمیر میں سرحد کے قریب کئی دیہات میں بھاری تباہی ہوئی۔ اور حکومت کی جانب سے متاثرہ کنبوں کو مکان کی تعمیر نو کے لیے تین لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم بطور معاوضہ دی گئی، لیکن متاثرین اسے ناکافی قرار دے رہے ہیں۔

متاثرہ کنبوں کو ملی نئی امید
ایچ آر ڈی ایس انڈیا (High-Range Rural Development Society) نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستانی شیلنگ کے شکار اور حالیہ سیلاب کے متاثرین کے لیے جموں و کشمیر میں 1500 سے زائد مکانات تعمیر کرے گی۔ اس حوالے سے ایچ آر ڈی ایس انڈیا نے صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار اور صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ایک ترجمان نے کہا: ’’یہ اقدام ایل جی منوج سنہا کی بصیرت اور دور اندیشی کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد قدرتی آفات اور دشمن کی بلا اشتعال گولہ باری سے متاثرہ شہریوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔‘‘
وارنٹی کے ساتھ ہوں گے مکانات تعمیر
ایچ آر ڈی ایس انڈیا کی ایڈمنسٹریٹر سریتا پی مینن نے بتایا کہ جیسے ہی مستفیدین کی فہرست تیار ہوگی، 30 دن کے اندر تعمیر کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ مکانات فائبر سیمنٹ بورڈ سے بنائے جائیں گے جو مقامی آب و ہوا کے مطابق ہوں گے۔ ہر مکان کی لاگت دس لاکھ روپے ہوگی جس میں تحتانی منزل میں دو جبکہ بالائی منزل پر ایک کمرہ ہوگا۔ یہ مکانات چھ ماہ میں مکمل ہوں گے اور ان پر 35 سالہ وارنٹی کے ساتھ مفت مرمت کی سہولت دی جائے گی۔
مینن کے مطابق یہ منصوبہ ملک بھر میں تعمیر کیے جانے والے ایک لاکھ مکانات کا ایک حصہ ہے جو پسماندہ طبقے کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت متاثرہ خاندانوں کو اضافی سہولتیں بھی دی جائیں گی جن میں مفت انٹرنیٹ، پندرہ سالہ لائف انشورنس، ماہانہ طبی معائنہ اور ہر پانچ سال بعد مفت پینٹنگ شامل ہے۔ ایچ آر ڈی ایس کے تربیت یافتہ رضاکار ہر مہینے مستفید ہونے والے گھروں کا دورہ کریں گے اور سرکاری اسکیموں کی تازہ ترین معلومات بھی فراہم کریں گے۔

نذیر احمد کے لیے یہ نیا مکان ان کے بچوں کی تعلیم دوبارہ شروع کرنے کی امید بن گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’میرے بچوں کی دینی اور اسکول کی تمام کتابیں آگ میں تباہ ہو گئیں۔ نقصان نے ہماری ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں:

