ETV Bharat / jammu-and-kashmir

وادی کشمیر میں بحران کے دوران کولڈ اسٹوریج نجات دہندہ ثابت ہوئے، سینکڑوں میٹرک ٹن سیب محفوظ

سرینگر-جموں قومی شاہراہ کی بندش کے دوران وادی کے کسانوں اور کاروباریوں کو اپنی پیداوار کو بچانے میں کولڈ اسٹوریجز سے کافی سہارا ملا۔

وادی بھر کے کولڈ اسٹوریجز میں سینکڑوں میٹرک ٹن سیب محفوظ
وادی بھر کے کولڈ اسٹوریجز میں سینکڑوں میٹرک ٹن سیب محفوظ (ETV Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : September 24, 2025 at 2:49 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

پلوامہ (سید عادل مشتاق شاہ): جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی میوہ صنعت اس سال بارشوں اور قومی شاہراہ کے متاثر ہونے کی وجہ سے شدید خطرات سے دوچار رہی۔ تاہم کولڈ اسٹوریج یونٹس نے بروقت قدم اٹھا کر کسانوں کو بھاری نقصان سے بچایا اور اس صنعت کو سہارا دیا۔

رواں سال لگاتار بارشوں اور سیلاب کے باعث قومی شاہراہ کو بھاری نقصان پہنچا، جس کے سبب وادی سے میوہ جات کی بروقت ترسیل ممکن نہ رہی۔ ایسے حالات میں کسان سخت پریشان تھے کیونکہ ان کی فصل تیار تھی لیکن اسے مارکیٹ تک پہنچانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔ اس نازک مرحلے میں کولڈ اسٹوریج یونٹس کے مالکان نے وقت سے قبل ہی اپنے اسٹور کھول دیے تاکہ کسان اپنی پیداوار محفوظ کر سکیں اور فوری نقصان سے بچ سکیں۔

وادی سے ٹرانسپورٹیشن میں دقتوں کے بیچ کولڈ اسٹوریجز میں سینکڑوں میٹرک ٹن سیب محفوظ (ETV Bharat)

ضلع پلوامہ جو میوہ جات کی پیداوار کے لیے مشہور ہے، اس وقت تقریباً 78 کولڈ اسٹوریج یونٹس رکھتا ہے، جن میں سے 28 فعال طور پر میوہ جات محفوظ کر رہے ہیں۔ ان یونٹس میں اس وقت 168 میٹرک ٹن سیب محفوظ کیا جا رہا ہے۔ یہ سہولت نہ صرف پلوامہ بلکہ وادی کے دیگر اضلاع کے کسان بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ اپنی فصل آف سیزن میں بہتر قیمت پر فروخت کر سکیں۔ اس سے مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی کا توازن قائم رہتا ہے اور کسانوں کو معقول آمدنی حاصل ہوتی ہے۔



کسانوں نے کولڈ اسٹوریج یونٹس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سہولت دستیاب نہ ہوتی تو امسال شاہراہ کی بندش اور بارشوں کے نتیجے میں ان کا بھاری نقصان ہوتا۔ ایک کسان نے کہا کہ "قومی شاہراہ کی بندش ہر سال ہمارے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، اس لیے سرکار کو چاہیے کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔"



اسی طرح کولڈ اسٹوریج یونٹس کے مالکان نے بتایا کہ شاہراہ کی بندش کی وجہ سے وادی سے باہر ترسیل رک گئی تھی جس سے میوہ صنعت کو بھاری نقصان کا اندیشہ تھا۔ "ہم نے کسانوں کو سہولت دینے کے لیے بروقت کولڈ اسٹور کھول دیا تاکہ وہ اپنی پیداوار محفوظ کر سکیں اور وقتی نقصان سے بچ سکیں،" ایک کولڈ اسٹوریج مالک نے کہا۔



فروٹ ایسوسی ایشن کے صدر جاوید احمد نے بھی کولڈ اسٹوریج یونٹس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہاکہ یہ سہولت میوہ صنعت کی بقا اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ "کولڈ اسٹوریج یونٹس کسانوں کو معاشی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس وقت ان کولڑ سٹوریجز میں بھیڑ بھاڑ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ کس قدر اہمیت رکھتے ہیں۔"



یہ حقیقت ایک بار پھر اجاگر ہوگئی ہے کہ کولڈ اسٹوریج یونٹس نہ صرف کسانوں کے لیے سہارا ہیں بلکہ جموں و کشمیر کی معیشت کو بحران سے نکالنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔


مزید پڑھیں:

’کسانوں کو کولڈ اسٹوریج کی اہمیت سے باخبر کرنا ناگزیر‘

کشمیر میں کولڈ اسٹوریج کا بڑھتا رجحان

کشمیر میں کولڈ اسٹوریج وسیلہ روزگار بھی ثابت ہو رہے ہیں