بھارت پاکستان جنگ 'رکوانے' پر نوبل انعام نہیں ملے گا؛ ٹرمپ کا چھلکا درد
اسلام آباد نے 'پاکستان بھارت جنگ روکنے میں مدد' کی بنیاد پر نوبل امن انعام 2026 کیلئے ٹرمپ کی حمایت کی ہے۔

Published : June 21, 2025 at 1:17 PM IST
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر امن کے نوبل انعام کے لیے اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا بھر میں کئی محاذوں پر جاری جنگیں روک دی ہیں اور نوبل انعام کے مستحق ہیں۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں ہندوستان پاکستان جنگ سمیت مختلف تنازعات کو 'رکوانے' کا دعویٰ کیا۔
قابل ذکر ہے کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور روانڈا نے مشرقی کانگو میں تشدد کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ان دونوں ممالک نے گذشتہ رات کو اس معاہدے پر امریکہ کے واشنگٹن ڈی سی میں دستخط کیے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پوسٹ کیا جس میں انہوں نے امن کے نوبل انعام کی خواہش ظاہر کی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سچ سوشل میڈیا پر لکھا کہ 'مجھے اس (ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور ریپبلک آف روانڈا کے بیچ معاہدہ) کے لیے امن کا نوبل انعام نہیں ملے گا۔ مجھے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ روکنے پر امن کا نوبل انعام نہیں ملے گا، مجھے سربیا اور کوسوو کے درمیان جنگ روکنے پر امن کا نوبل انعام نہیں ملے گا، مجھے مصر اور ایتھوپیا کے درمیان امن برقرار رکھنے پر امن کا نوبل انعام نہیں ملے گا، اور مجھے معاہدہ ابراہیمی کرانے پر امن کا نوبل انعام نہیں ملے گا۔'
متعلقہ خبر: کس سمت میں جا رہا ہے پاکستان، شہباز حکومت کا ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے باضابطہ نامزد کرنے کا اعلان
اسی کے ساتھ انہوں نے مشرق وسطیٰ اور دیگر تنازعات کی بات کرتے ہوئے کہا کہ 'نہیں، مجھے امن کا نوبل انعام نہیں ملے گا چاہے میں کچھ بھی کروں، بشمول روس/یوکرین اور اسرائیل/ایران، اس کے نتائج کچھ بھی ہوں، لیکن لوگ جانتے ہیں، اور میرے لیے یہی اہمیت رکھتا ہے!"
کانگو روانڈا معاہدے میں یہ نکات شامل
جانکاری کے مطابق امریکہ میں روانڈا اور کانگو کے درمیان مسلسل تین روز تک مذاکرات کا دور چلا۔ آخر کار جمعہ کو دونوں ممالک معاہدے پر پہنچ گئے۔ ساتھ ہی آنے والے دنوں میں اس پر مہر لگنے کی بھی امید ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس معاہدے میں کئی اہم نکات شامل کیے گئے ہیں، جیسے کہ دونوں ملک ہتھیار کا استعمال نہیں کریں گے، غیر ریاستی مسلح گروپوں کو بھی ختم کریں گے۔ اس کے ساتھ مہاجرین اور تارکین وطن کی واپسی پر بھی معاہدہ ہوا ہے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ مشرقی کانگو کو طویل عرصے سے مسلح تنازعات کا سامنا ہے۔ یہاں بہت سے ایسے مسلح گروہ ہیں، جو قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ تشدد اس سال جنوری کے مہینے میں شروع ہوا تھا، جب M23 نام کی باغی تنظیم، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ روانڈا کی حمایت یافتہ تھی، نے گوما شہر پر قبضہ کر لیا۔ یہ علاقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ وہیں روانڈا نے اس گروپ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان تشدد میں ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر بھی ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ہم نے بھارت اور پاکستان کو لڑائی سے روکا؛ ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگ بندی کرانے کا دعویٰ دہرایا

