پی او کے میں حکومت پاکستان کے خلاف زبردست مظاہرے، پولیس کی فائرنگ سے تین مظاہرین ہلاک
پی او کے میں لوگوں کی بڑی تعداد حکومت پاکستان کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئی۔


Published : September 30, 2025 at 9:55 AM IST
مظفرآباد، پاکستان: پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے POK) میں پرتشدد مظاہرے اور مکمل شٹر ڈاؤن جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں تین افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔ یونائیٹڈ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے حکومت کی جانب سے مطالبات پورے کرنے میں ناکامی کے بعد پیر کو بند کی کال دی تھی۔
لوگوں کی بڑی تعداد بند کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئی جس کے نتیجے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پی او کے میں میرپور، کوٹلی اور مظفرآباد میں بند کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد اپنے حقوق مانگنے کے لیے جمع ہوئی۔ مظاہرین نے حکام پر انصاف کے ان کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
پاکستانی میڈیا جھوٹی خبریں پھیلا رہا
دریں اثنا، تشدد کے درمیان، JAAC کے صدر شوکت نواز میر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے، حکومتی ایجنسیوں پر مظاہرین کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت نے لوگوں کو مارنے کا سہارا لیا ہے، پولیس ہمارے ساتھ ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ "ریاست میں لوگ مارے جا رہے ہیں اور ہمارا پاکستانی میڈیا جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے۔"
حکومت پر "نااہلی اور جبر" کا الزام
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پی او کے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی نے آن لائن مظاہروں کو فروغ دیا اور انور کی قیادت والی حکومت پر "نااہلی اور جبر" کا الزام لگاتے ہوئے بیانات جاری کیے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں بدامنی پھیل گئی۔ پی ٹی آئی نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ "سارا میرپور اپنے حقوق مانگنے اور اس نااہل انور حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا ہے۔"
پرامن مظاہرین پر براہ راست فائرنگ
پارٹی نے یہ بھی الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران حکومت کی سرپرستی میں تشدد ہوا ہے۔ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا، "مسلم (مجرمانہ) کانفرنس کے غنڈوں کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جو حکومتی تحفظ میں ہیں، پرامن مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کر رہے ہیں، جس سے چار افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔"

