ETV Bharat / international

جیل میں قید عمران خان کو نوبل انعام کے لیے کیا گیا نامزد، کیا اس بار بانی پی ٹی آئی کو امن کا انعام ملے گا؟

عمران خان جو پاکستان کی مرکزی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے بانی بھی ہیں، اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔

جیل میں قید عمران خان کو نوبل انعام کے لیے کیا گیا نامزد، کیا اس بار اسے امن کا انعام ملے گا؟
جیل میں قید عمران خان کو نوبل انعام کے لیے کیا گیا نامزد، کیا اس بار اسے امن کا انعام ملے گا؟ (Image Source: IANS)
author img

By PTI

Published : March 31, 2025 at 8:03 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

نئی دہلی: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے ان کی خدمات پر 2025 کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے ان کی کوششوں پر امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ معلومات پاکستان ورلڈ الائنس اور ناروے کی سیاسی جماعت سینٹرم نے دی ہے۔

پاکستان ورلڈ الائنس (PWA) کے اراکین نے، جو کہ گزشتہ سال دسمبر میں قائم کیا گیا ایک وکالت گروپ ہے، نے عمران خان کی نامزدگی کا اعلان کیا ہے، جو ناروے کی سیاسی جماعت پارٹی سینٹرم کے رکن بھی ہیں۔

پارٹی سینٹرم کی جانب سے ایکس کہا گیا کہ ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ نامزدگی کے حق کے حامل کسی بھی فرد کے ساتھ اتحاد میں، پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے ساتھ کام کرنے پر امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

فاتح کا اعلان آٹھ ماہ بعد کیا جائے گا۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ناروے کی نوبل کمیٹی کو ہر سال سینکڑوں نامزدگیاں موصول ہوتی ہیں جس کے بعد وہ آٹھ ماہ کے طویل عمل کے ذریعے فاتح کا انتخاب کرتی ہے۔

عمران خان، جو پاکستان کی مرکزی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی کے بانی بھی ہیں، اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔

اس سال جنوری میں، خان کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی سے متعلق ایک مقدمے میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ چوتھا بڑا کیس تھا جس میں سابق وزیراعظم کو سزا سنائی گئی ہے۔ تاہم عمران خان نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام کیسز سیاسی طور پر محرک ہیں۔

2022 میں حکومت گر گئی تھی

اس سے پہلے کی تین سزائیں، جو کہ سرکاری تحائف کی فروخت، سرکاری معلومات کو لیک کرنے اور غیر قانونی شادی سے متعلق تھیں، کو عدالتوں نے یا تو منسوخ یا معطل کر دیا تھا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ عمران خان اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے بعد اقتدار سے باہر ہو گئے تھے۔

پہلے ہی نامزد کیا گیا ہے

عمران خان کو 2019 میں امن کے نوبل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا، جب انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ ناروے کی نوبل کمیٹی کو ہر سال سینکڑوں نامزدگیاں موصول ہوتی ہیں۔ اس کے بعد آٹھ ماہ کے طویل انتخابی عمل کے ذریعے فاتح کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ایوارڈ کا اعلان اکتوبر میں کیا جائے گا، اور انعام کی تقسیم دسمبر 2025 میں ہوگی۔

حامیوں کی بڑی جیت

عمران خان کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی کو ان کے حامیوں کی بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ان کی قانونی جنگ ابھی جاری ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ عمران خان کو یہ اعزاز ملتا ہے یا نہیں۔