ETV Bharat / international

افغانستان پاکستان سرحد پر بدستور جھڑپیں جاری، 200 سے زائد افغان فائٹرس ہلاک، پاکستان کا دعویٰ

پاکستانی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ سرحدی جھڑپوں میں 200 سے زائد افغان جنگجو مارے گئے ہیں۔

افغانستان پاکستان سرحد پر بدستور جھڑپیں جاری
افغانستان پاکستان سرحد پر بدستور جھڑپیں جاری (AP)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : October 13, 2025 at 3:07 PM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

اسلام آباد: افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی بدستور بڑھ رہی ہے۔ دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان جھڑپیں اب ایک بڑے فوجی تصادم کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ تازہ ترین پیش رفت میں، پاکستان نے کئی افغان سرحدی چوکیوں، تربیتی مراکز اور اہم اڈوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق اس جوابی کارروائی میں 200 سے زائد افغان فوجی مارے گئے۔

یہ سارا تنازع جمعرات کی رات اس وقت شروع ہوا جب پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر فضائی حملہ کیا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ افغان سرحدی فورسز کے حملے کے جواب میں کیا گیا۔ تاہم، افغانستان نے اسے "بلا اشتعال جارحیت" قرار دیا اور اگلے دن جوابی کارروائی کرتے ہوئے کئی پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملہ کیا۔ طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کی رات ہونے والی جھڑپوں میں 58 پاکستانی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

پاکستان نے اتوار کی صبح ایک بار پھر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان سرحد کے ساتھ کئی علاقوں پر حملہ کیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستانی فوج نے بتایا کہ یہ کارروائی افغان فورسز کے حملے کے بعد کی گئی اور طالبان کے متعدد ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔ تاہم، ایجنسی نے مزید کہا کہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان نے صرف نو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

افغان وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان نے دوبارہ ملکی سالمیت کی خلاف ورزی کی تو افغان فوج پوری طاقت سے جواب دے گی۔ افغان فورسز نے خیبر پختونخوا میں انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر اور چترال کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے علاقے بارمچہ میں پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے طالبان پر شہریوں پر فائرنگ کا الزام لگاتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور موثر جواب دیا اور کسی بھی اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس ساری پیش رفت کے درمیان افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اتوار کو نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتا ہے لیکن اگر امن کی کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو ہمارے پاس اور آپشنز ہیں۔ متقی نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے بات چیت ضروری ہے لیکن کچھ عناصر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: