پروفیسر علی خان کو سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد ایک اور راحت، قومی انسانی حقوق کمیشن نے گرفتاری کا از خود نوٹس لیا
سپریم کورٹ نے پروفیسر علی خان کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔ ہدایت دی کہ 24 گھنٹے کے اندر ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے۔

Published : May 21, 2025 at 1:10 PM IST
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اشوکا یونیورسٹی، ہریانہ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان محمود آباد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ پروفیسر علی خان کو آپریشن سندور سے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
Supreme Court orders release of Ali Khan Mahmudabad, associate professor and head of the Political Science department at Ashoka University in Haryana, against his arrest over a social media post on Operation Sindoor. SC grants interim bail to Mahmudabad subject to furnishing of… pic.twitter.com/Ua9Kc6YyqU
— ANI (@ANI) May 21, 2025
سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
سپریم کورٹ نے پروفیسر علی خان کو اس شرط پر عبوری ضمانت دی کہ وہ سی جے ایم، سونی پت کے سامنے ضمانتی مچلکے پیش کریں گے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وہ دونوں پوسٹوں سے متعلق کوئی آن لائن مضمون نہیں لکھیں گے اور نہ ہی کوئی آن لائن تقریر کریں گے، جو کہ تحقیقات کا موضوع ہے۔
سپریم کورٹ نے انہیں ہندوستانی سرزمین پر دہشت گردانہ حملوں یا ہمارے ملک کی طرف سے جوابی کارروائی کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے روک دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ علی خان کو اپنا پاسپورٹ جمع کرانا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے تین آئی پی ایس افسران پر مشتمل ایس آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیا ہے جس میں ایک خاتون افسر بھی شامل ہوگی جو ریاست سے باہر کی ہوگی۔
سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ 24 گھنٹے کے اندر ایس آئی ٹی بنائی جائے، ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان تحقیقات میں شامل ہوں گے اور تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔
The National Human Rights Commission (NHRC) has come across a news report dated 20th May, 2025 regarding the arrest and remand to custody of a Professor of Ashoka University (a deemed to be University) in Haryana. The Commission has noted that the report, which contains a gist of… pic.twitter.com/5DmgWa1drG
— ANI (@ANI) May 21, 2025
قومی انسانی حقوق کمیشن نے لیا نوٹس:
قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے آج ہریانہ میں اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمود آباد کی گرفتاری اور تحویل کے حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ کا از خود نوٹس لیا۔ جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کمیشن نے کہا ہے کہ جن الزامات کی بنیاد پر انھیں گرفتار کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پہلی نظر میں ان کے انسانی حقوق اور آزادی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
محمود مدنی نے علی خان کی گرفتاری کی مخالفت کی تھی:
واضح رہے، جمعیتہ علما ہند کے صدر و سابق رکن پارلیمنٹ مولانا محمود مدنی نے بی جے پی اور اس کی ریاستی حکومتوں پر دہرا رویہ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے پروفیسر علی خان کی گرفتاری کی سخت لفظوں میں مذمت کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ کرنل صوفیہ قریشی سے متعلق نازیبہ ریمارکس کرنے والے مدھیہ پردیش کے سینئر وزیر کنور وجئے شاہ کے خلاف بی جے پی قیادت نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی۔
واضح رہے کہ علی خان محمودآباد کو پیر کے روز سونی پت کی ضلعی عدالت نے 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
پروفیسر علی خان کو 18 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا جب ان کے خلاف دو فرسٹ انفارمیشن رپورٹس ہندوستان کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کے سنگین الزامات کے تحت درج کی گئی تھیں۔ دو روزہ پولیس تحویل ختم ہونے کے بعد انھیں سونی پت پولیس نے عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے ریمانڈ میں مزید 7 دن کی توسیع کی درخواست کی، عدالت نے پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پروفیسر کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔
اتوار کو محمود آباد نے اپنی گرفتاری کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے ان کی درخواست کی فوری سماعت کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:

