اسرائیل میں کام کرنے والے بھارتی نوجوان کی ویڈیو کال، سائرن اور دھماکوں کی آوازیں سن کر اہل خانہ خوفزدہ
بارہ بنکی کے تقریباً 20-25 نوجوان اسرائیل ایران جنگ کے درمیان وہاں کام کر رہے ہیں۔ اہل خانہ میں خوف کی فضا ہے۔

Published : June 17, 2025 at 12:57 PM IST
بارہ بنکی: اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نےاترپردیش کے مزدوروں کے خاندانوں کو ایک بار پھر خوفزدہ کردیا ہے۔ یوپی کے بارہ بنکی ضلع کے تقریباً 20-25 نوجوان اس وقت اسرائیل میں ہیں۔ جب وہ وہاں سے ویڈیو کالز کے ذریعے اپنے گھر والوں کو صورتحال بتاتے ہیں تو یہاں رہنے والے ان کے گھر والے سو نہیں پاتے۔ صورتحال یہ ہے کہ گھر والے اب روزانہ اپنے پیاروں سے بات کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنی حفاظت کی خبریں ملتی رہیں۔ ویڈیو کال کے دوران سائرن کی آواز گونجتی ہے تو یہاں کے اہل خانہ کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ 9 ماہ قبل بھی ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ جیسی صورتحال تھی تب بھی گھر والے پریشان تھے۔
بارہ بنکی کے دیوان تھانہ علاقے کے صالح نگر گاؤں کی نئی کالونی کے تقریباً دو درجن نوجوان مزدور اسرائیل میں ہیں۔ نئی کالونی کے رہنے والے راجو سنگھ نے بتایا کہ اس کے بھتیجے کے پی سنگھ، جنیندر پرتاپ سنگھ، چچا کا بیٹا، بڑے بھائی کا بیٹا للت سنگھ، پڑوسی مونو، سنجے، منگل سنگھ اور دنیش سنگھ کے ساتھ گاؤں کے 20 سے 25 نوجوان اسرائیل میں ہیں۔ وہ تقریباً ایک سال سے وہاں رہ رہے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔ راجو سنگھ نے بتایا کہ ان کی تنخواہ ایک لاکھ روپے سے لے کر ڈیڑھ لاکھ روپے تک ہے۔ نئی کالونی کے ونود نے بتایا کہ ان کا بیٹا راکیش بھی تقریباً ایک سال سے اسرائیل میں ہے۔
خاندان کے افراد نے ویڈیو کال پر بات کی: اس گاؤں کے بہت سے لڑکے جن میں رنجیت، ببلو سنگھ بھی شامل ہیں، مزدوری کرنے اسرائیل گئے ہیں۔ ونود سنگھ نے کہا کہ تمام لڑکے بالکل ٹھیک اور محفوظ ہیں۔ ونود سنگھ نے کہا کہ ہفتہ کو ایران کے حملے کے بعد ان کے بیٹے راکیش نے ویڈیو کال کرکے بتایا کہ وہ سب محفوظ ہیں۔ راکیش نے اپنے والد کو بتایا کہ جب سائرن بجتا ہے اور الرٹ جاری کیا جاتا ہے تو انہیں فوری طور پر بنکروں میں بھیج دیا جاتا ہے۔
اسرائیل میں رہنے والے راکیش نے کچھ ویڈیوز گھر بھیجے ہیں۔ ونود نے کہا کہ ان کے آجروں نے انہیں ویڈیوز بھیجنے سے منع کیا ہے۔ ان نوجوانوں نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ روزانہ 150-200 میزائل گرتے ہیں۔ ان نوجوانوں نے اپنے گھر والوں کو بمباری کی ویڈیو دکھائی اور کہا کہ تم لوگ کہتے ہو کہ ڈیڑھ لاکھ، دو لاکھ کماتے ہو، اسرائیل کے میزائل دیکھو۔ ان میں سے ایک یا دو اتر بھی جائیں تو باقی ہوا میں تباہ ہو جاتے ہیں۔
دن کے وقت مزدور باہر جاتے ہیں: گاؤں کے راجو سنگھ نے بتایا کہ لڑکوں کا کام پچھلے چار دنوں سے بند تھا۔ وہ صرف دن کے وقت باہر نکلتے ہیں۔ لڑکوں کے مطابق وہ محفوظ ہیں لیکن جنگ جنگ ہے۔ انسان ہمیشہ ڈرتا ہے۔ تقریباً ایک سال سے اسرائیل میں مقیم مونو سنگھ نے ایک ویڈیو کال کے ذریعے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ جیسے ہی خطرے کا امکان ہوتا ہے سائرن بجنے لگتا ہے اور ہم سب فوراً بنکروں میں چلے جاتے ہیں۔ 5 دن بعد کام شروع ہوا ہے۔ رات بھر میزائل گرتے ہیں۔ خاندان کے مطابق ان کے لڑکے اسرائیل میں محفوظ ہیں۔ وہاں کی حکومت ان کا خیال رکھتی ہے لیکن جب وہ ان کو ویڈیو کال کرتے ہیں اور سائرن، بم اور دھماکوں کی آوازیں سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔
یوپی کے کئی اضلاع سے مزدور اسرائیل گئے ہیں: آپ کو بتاتے چلیں کہ حکومت ہند اور اسرائیل کے درمیان تعمیراتی کارکنوں کو اسرائیل میں روزگار فراہم کرنے کے معاہدے کے بعد، ہندوستان کی نیشنل اسکلڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (NSDC) نے اسرائیلی ادارے یعنی پاپولیشن امیگریشن اینڈ بارڈر اتھارٹی (PIBA) کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت یوپی کے کئی اضلاع سے ہنرمند مزدور اسرائیل بھیجے ہیں۔ ان میں ضلع بارہ بنکی کے ہنر مند نوجوان بھی اسرائیل گئے ہیں۔

