ETV Bharat / bharat

گجرات اے ٹی ایس نے القاعدہ کے 4 مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا

چار مشتبہ دہشت گردوں میں سے دو کو گجرات سے، ایک کو دہلی سے اور ایک کو نوئیڈا سے گرفتار کیا گیا ہے۔

گجرات اے ٹی ایس نے القاعدہ کے 4 مشتبہ دہشت گردوں کو  گرفتار کیا
گجرات اے ٹی ایس نے القاعدہ کے 4 مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا (Etv Bharat)
author img

By ETV Bharat Urdu Team

Published : July 24, 2025 at 7:34 AM IST

3 Min Read
Choose ETV Bharat

احمد آباد: گجرات اے ٹی ایس نے القاعدہ سے منسلک دہشت گرد ماڈیول کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ جانکاری اے ٹی ایس کے ڈی آئی جی سنیل جوشی نے بدھ کو دی۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

اے ٹی ایس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گجرات اے ٹی ایس نے القاعدہ سے منسلک دہشت گرد ماڈیول سے منسلک چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ گجرات اے ٹی ایس حکام کے مطابق پکڑے گئے چار دہشت گردوں میں سے دو کو گجرات، ایک کو دہلی اور ایک کو نوئیڈا (اتر پردیش) سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان تمام دہشت گردوں کا تعلق برصغیر ہند میں القاعدہ (AQIS) سے بتایا جاتا ہے۔ گرفتار مشتبہ دہشت گردوں کی شناخت سیف اللہ قریشی، محمد فردین، محمد فیض اور ذیشان علی کے نام سے ہوئی ہے۔

مبینہ طور پر دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی تھی

گجرات اے ٹی ایس نے جن چاروں مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے ان کی عمریں 23 سے 25 سال کے درمیان ہیں اور مبینہ طور پر وہ ہندوستان میں بڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ 2023 میں ایک ہی دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے کے الزام میں چار مشتبہ بنگلہ دیشی شہریوں کو شہر کے مختلف حصوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

انسٹاگرام اکاؤنٹ میں اشتعال انگیز سرگرمیاں

گجرات اے ٹی ایس کے ڈی آئی جی سنیل جوشی نے کہا، "ڈی ایس پی ہرش اپادھیائے کو 10 جون کو 5 مشتبہ انسٹاگرام اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات ملی جو القاعدہ سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک تھے۔ ان انسٹاگرام اکاؤنٹس کا استعمال ملک مخالف اشتعال انگیز سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے کیا گیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ گرفتار تمام 4 مشتبہ ملزمان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس لے کر ان کی معلومات حاصل کی گئیں۔ اس کے بعد پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے 25 سے زائد افراد پر مشتمل 4 ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ احمد آباد فتح واڑی میں فردین کے پاس سے ایک تلوار اور القاعدہ سے متعلق دستاویزات ملی ہیں اور اس کے بیان کی بنیاد پر 3 دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دہلی کے محمد فیض رضوان ایک پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے منسلک تھا۔ تمام گرفتار ملزمان انسٹاگرام پر ظہوریت کے خاتمے اور نفاذ شریعت کے حوالے سے پوسٹ کرتے تھے۔ کچھ ملزمان ٹیلرنگ کا کام کرتے ہیں۔ کچھ ریستوراں میں کام کرتے ہیں۔ نوئیڈا کے ذیشان سے ہتھیاروں کی تصویریں ملی ہیں لیکن کوئی ہتھیار نہیں ملا ہے۔

تمام ملزمان کی سوشل میڈیا پوسٹس کے متن اردو اور انگریزی میں تھے۔ دہلی کا رہائشی محمد فیض مرکزی ملزم لگتا ہے کیونکہ وہ پورے معاملے میں سب سے زیادہ سرگرم پایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: