دھیریندر شاستری کی یاترا کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں: شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند
شنکراچاریہ نے کہاکہ شاستری سیاست کے لیے یاترا نکال رہے ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں جبکہ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

Published : December 8, 2024 at 8:07 PM IST
راجکھیڑا: جیوتیرمتھ شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند نے راجکھیڑا کے تین روزہ دورے پر اتوار کی صبح ایک مذہبی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دھیریندر شاستری کی یاترا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شنکراچاریہ نے کہا کہ سناتن دھرم اور یاترا کا معاملہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ "ہم سمجھتے ہیں کہ یہ یاترا سیاست سے متاثر ہے۔ یاترا کے دوران 'بٹیں گے تو کٹیں گے‘ جیسے نعرے لگائے جاتے ہیں جس سے سماج میں تفریقہ بڑھ رہا ہے۔ یہ سب کچھ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک پارٹی کا آئیڈیا ہے جسے عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔
اجتماع میں راجکھیڑا کے ایم ایل اے روہت بوہرا کے علاوہ عقیدتمندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شنکراچاریہ نے کہا کہ اگر شاستری سیاست کے لیے ایسا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سیاسی رہنما اپنی کامیابی کےلئے اس طرح کے طریقے اپناتے ہیں لیکن اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ذات پات کو خیرباد کہہ کر مذہب کا اتحاد حاصل نہیں کیا جاسکتا جبکہ ذات پات میں ہم آہنگی پیدا کرکے اور اپنے مذہب پر رہ کر ہی اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: Shankaracharya on RSS آر ایس ایس کے پاس کوئی صحیفہ نہیں جو افسوس ناک ہے، شنکراچاریہ سوامی نشلانند
انہوں نے مزید کہا کہ تلسی داس کے رامچرتمانس میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ جب بھگوان رام کی تاج پوشی ہوئی تو انہوں نے تمام ذاتوں اور آشرموں کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے کو کہا۔ اس سے سماج میں اتحاد پیدا ہوا، چنانچہ سناتن کا اتحاد اس طرح قائم ہوا۔

