حیدرآباد: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف 19 اپریل کو یہاں ایک احتجاجی جلسے کا انعقاد کرے گا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے اتوار کو اس بات کی جانکاری دی۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ یہ جلسہ دارالسلام (اے آئی ایم آئی ایم ہیڈکوارٹر) میں شام سات بجے سے رات 10 بجے تک مسلم پرنسل لا بورڈ کے صدر خالد سیف اللہ رحمانی کی قیادت میں منعقد ہوگا۔
حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اس احتجاج میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مسلم پرسنل لا بورڈ کے ارکان اور دونوں ریاستوں کی دیگر مسلم تنظیمیں کارکنان شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی اجلاس سے خطاب کریں گے اور عوام کو بتائیں گے کہ وقف (ترمیمی) ایکٹ کس طرح وقف کے حق میں نہیں ہے۔
ایم آئی ایم کے سربراہ نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ وقف کمیٹی کے ارکان سے بھی بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر ان کا شیڈول اجازت دیتا ہے تو وہ بھی اس جلسہ عام میں شامل ہو سکتے ہیں۔
.@AIMPLB_Official ki janib se 19th April ko munaqid hone wale Waqf Qanoon ke khilaf Ehtejaaji Jalsa ki taiyaariyo'n ke silsile mein 14th April ko Darussalam, Hyderabad mein Meeting munaqid ki gayi hai. Iss silsile mein Barrister @asadowaisi ne " majlis ke araakeen-e-assembly,… pic.twitter.com/KxjlxPiFV2
— AIMIM (@aimim_national) April 12, 2025
قابل ذکر ہے کہ پانچ اپریل کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے وقف (ترمیمی) بل 2025 کو اپنی منظوری دی تھی، جسے حال ہی میں پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا۔
'یہ ایکٹ وقف اور مسلمانوں کے حق میں نہیں'
اویسی نے الزام لگایا کہ نریندر مودی حکومت کی طرف سے لایا گیا وقف (ترمیمی) ایکٹ غیر آئینی ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 14، 15، 25، 26 اور 29 سمیت کئی دفعات کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے۔
'وہ اپنا نظریہ ملک پر مسلط کر رہے ہیں'
ایم آئی ایم سربراہ نے وزیر اعظم مودی سے اپیل کی کہ وہ اس ایکٹ پر دوبارہ غور کریں۔ اویسی نے کہا کہ "آپ (پی ایم مودی) یہ قانون بنا رہے ہیں جو ہندوستان کے آئین کے خلاف ہے اور آپ اپنا نظریہ ملک پر مسلط کر رہے ہیں۔ آپ کا نظریہ ملک و آئین کی بنیاد پر چاہیے"۔
بی جے پی پر جھوٹ پھیلانے کا الزام
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر یہ کہہ کر جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا کہ کوئی بھی وقف ٹریبونل کے فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ٹریبونل، این جی ٹی اور ریلوے کلیمز ٹریبونل سمیت کئی ٹریبونل ہیں اور ان کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواستیں دائر کی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: وقف کسے کہتے ہیں؟ اس کی شروعات کب ہوئی؟ مکمل تاریخ پر ایک نظر
انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے یہ سیاہ قانون این ڈی اے کے اتحادیوں این چندرابابو نائیڈو (ٹی ڈی پی)، نتیش کمار (جے ڈی-یو)، چراغ پاسوان (ایل جے پی-رام ولاس) اور جینت چودھری (آر ایل ڈی) اور دیگر کے تعاون سے بنایا ہے۔
'مسلم پرنسل لا بورڈ کے فیصلے کی حمایت کریں'
اویسی نے استفسار کیا کہ حکومت بتائے کہ اس قانون میں وقف بورڈ اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے والی دفعات کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ دراصل یہ سب کچھ مسلمانون کی جائیداد چھیننے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ترامیم کے ذریعے وقف کو تباہ کرنے کی تمام کوششیں کی گئی ہیں۔
اویسی نے کہا کہ "ہم اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہم مسلم پرسنل لا بورڈ کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ وقف (ترمیمی) ایکٹ کے خلاف ملک گیر تحریک کی قیادت کرے گی۔ ہم اپیل کرتے ہیں کہ احتجاج جہاں کہیں بھی ہو، اسے کامیاب بنائیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ احتجاج پرامن ہونا چاہیے۔"
یہ بھی پڑھیں: وقف ترمیمی بل کے قانون بننے پر کیا کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
وقف ترمیمی بل میں کیا ہے؟ جانیے حکومت کی منشا، اس سے ہونے والی تبدیلیاں اور مسلمانوں کے خدشات